صادقین کو منفرد مصوری کی بناء پرپکاسو آف دی ایسٹ کا لقب بھی دیا گیا

صادقین کو منفرد مصوری کی بناء پرپکاسو آف دی ایسٹ کا لقب بھی دیا گیا

کراچی: قرآن پاک کی آیات بالخصوص سورہ رحمن کی مکمل مصوری جس دلنشین اور جداگانہ انداز میں کی وہ اپنی مثال آپ ہے

صادقین کے بارے مشہور ہے کہ وہ جنوں کی طرح کام کرتے تھے، وہ یوں تو 57 برس جیے مگر اگلے 100 برس کا کام کرگئے۔ شعبہ مصوری سے منسلک افراد کے مطابق لکیریں ان کے ہاتھوں میں رقص کرتی تھیں۔
علامہ اقبال، غالب اور فیض احمد فیض کے منتخب کردہ اشعار کو جس خوبصورتی سے مصوری کے قالب میں ڈھالا وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ فنی خدمات کے صلے میں ملکی سطح پر انہیں تمغہ امتیاز برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز جبکہ پیرس کے دنیائے آرٹ کے سب سے بڑے اعزاز سے بھی نوازاگیا۔
صادقین کی فن مصوری سے گہری وابستگی کی اس سے بڑی مثال کیا ہوگی کہ دوران بیماری بھی اقبال کی شاعری اور مصوری پر مشتمل فن پارے تخلیق کیے۔ فن مصوری کو جداگانہ اسلوب دینے والے صادقین 10 فروری 1987ء کو خالق حقیقی سے جاملے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

عائزہ واحد خاتون ہے جس کے ساتھ میں نے فلرٹ نہیں کیا، دانش تیمور

کراچی:  دانش تیمور نے اپنی اور عائزہ کی محبت کی کہانی بتاتے ہوئے کہا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے