گندم کی برآمدات ایک معمہ بنی ہوئی ہے

گندم کی برآمدات ایک معمہ بنی ہوئی ہے

اسلام آباد: ملک میں آٹے اور گندم کی فراہمی میں کمی ہوجائے گی لیکن اس مسئلے کو پس پشت ڈالتے ہوئے نہ تو اس کی برآمد رکی اور نہ ہی آٹے سے دیگر اشیا مثلاً سوجی، میدہ تیار کرنے کا سلسلہ رکا

جولائی کے اوآخر سے نومبر کے پہلے ہفتے تک وزارت تحفظ خوراک اور وزارت تجارت کی جانب سے ان اشیا کی برآمدات روکنے کے متعدد نوٹفکیشن جاری کیے گئے لیکن کسی حد تک انہیں پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے مرتب کردہ اعداد و شمار میں رپورٹ کیا گیا۔
مقامی منڈیوں میں آٹے اور گندم کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ای سی سی نے 17 جولائی 2019 کو گندم اور آٹے کی برآمد پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کا نوٹفکیشن جاری کرنے کے عمل میں مزید 13 دن لگ گئے اور 30 جولائی کو نوٹفکیشن جاری ہوا۔
وزارت تحفظ خوراک نے ایک وضاحت جاری کی کہ گندم ست تیار کی جانے والی دیگر اشیا مثلاً فائن آٹا، میدہ اور سوجی اس پابندی سے مستتثنٰی ہیں، پابندی سے اس استثنٰی اور نرمی نے ان اشیا کی برآمد کی راہ ہموار کردی۔
پی بی ایس کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2019 میں 2 ہزار 60 ٹن گندم جبکہ اکتوبر میں ایک ہزار 887 ٹن گندم برآمد کی گئی تاہم اگست میں گندم کی کوئی برآمد نہیں ہوئی۔
پاکستان سے جون اور جولائی میں میں 89 ہزار 237 ٹن گندم برآمد کی گئی تاہم پی بی ایس کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار میں آٹے اور گندم کی برآمد کو علیحدہ علیحدہ ظاہر نہیں کیا گیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی میں 53 ہزار 393 ٹن، اگست میں ایک ہزار 179 ٹن، ستمبر میں ایک ہزار 36 ٹن اور اکتوبر میں 23 ہزار 991 ٹن آٹا برآمد کیا گیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے محکمہ کسٹم نے اس بات کی تحقیقات کا آغاز کردیا ہے کہ پابندی کے باوجود یہ اشیا کس طرح برآمد کی گئیں۔
وزارت تجارت نے یہ معاملہ ایف بی آر کے ساتھ اٹھایا تھا لیکن ادارہ وزارت کو برآمدات کے اعداد و شمار فراہم کرنے سے گریزاں تھا جس میں کچھ ’خصوصی کمپنیاں‘ ملوث ہیں۔
کسٹم پابندی کے باوجود گندم برآمد کرنے والی کمپنیوں کی تفصیلات دینے کے لیے تیار نہیں ہے تاہم شاید یہ معلومات وزیراعظم سیکریٹریٹ کو فراہم کردی گئی ہیں۔
جولائی سے اکتوبر تک جاری رہنے والی یہ برآمدات انڈونیشیا، سری لنکا اور افغانستان کو کی گئیں۔
محکمہ کسٹم کے پاس گندم کی دیگر اشیا مثلاً فائن آٹا، میدہ اور سوجی کی برآمدات کے اعداد و شمار موجود ہیں تاہم وہ کسی کو فراہم نہیں کیے گئے جبکہ پی بی ایس کے اعداد و شمار میں ان اشیا کی برآمدات کو علیحدہ علیحدہ نہیں درج کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگیا

سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگیا

اسلام آباد: سربراہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنل سینٹر فار پولیو (این ای او سی) ڈاکٹر صفدر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے