قاہرہ کی سڑکوں پر رقصاں خواتین بیلے ڈانسرز

مغربی ممالک میں تو شاید یہ ایک عام بات ہو لیکن ایشیائی خصوصاً مسلمان ممالک میں یہ ایک نہایت ہی حیرت انگیز اور غیر معمولی بات ہے۔ سڑک پر رقاصوں اور خصوصاً خواتین رقاصاؤں کا رقص بہت سوں کو ناگوار گزر سکتا ہے۔

مصر کے دارالحکومت میں بھی ایک فوٹو گرافر اور چند بیلے ڈانسرز نے قاہرہ کی سڑکوں پر رقص کر کے لوگوں کو ناک بھوں چڑھانے پر مجبور کردیا۔ بیلے ڈانس رقص کی ایسی قسم ہے جس میں رقاص اپنے پاؤں کی انگلیوں کے سہارے رقص کے مختلف مراحل سر انجام دیتا ہے۔

محمد طاہر نامی یہ فوٹوگرافر اس سے قبل بہت سے ممالک میں سڑک پر بیلے ڈانس کے مظاہرے اور ان کی تصویر کشی و عکس بندی دیکھ چکا تھا اور وہ مصر میں بھی ایسا ہی فوٹو پروجیکٹ شروع کرنا چاہتا تھا۔

جب اس نے چند بیلے ڈانسرز کی مدد سے اس پر کام شروع کیا تو بہت جلد اس کی تصاویر خواتین کی خود مختاری کی علامت بن گئیں۔ اس کی یہ تصاویر سڑکوں پر خواتین کی چھیڑ چھاڑ اور ہراسمنٹ کے خلاف ایک استعارے کے طور پر لی جانے لگیں۔

محمد طاہر نے نہ صرف ان رقاصاؤں کی رقص کرتے ہوئے تصویر کشی کی، بلکہ پس منظر میں ان افراد کو بھی عکس بند کرلیا جو ان ڈانسرز کو حیرت، ناگواری، یا تعجب سے دیکھ رہے ہیں۔

قاہرہ شہر کی اندرونی گلیوں میں عکس بند کی جانے والی ان تصاویر کے پس منظر میں قاہرہ کی قدیم اور روایتی مضبوط دیواریں، گلیاں، گھر اور دیگر تاریخی تعمیرات اور ان کے سامنے بیلے ڈانس کا مظاہرہ، دیکھنے والوں کو مبہوت کردیتا ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

سعودی عرب: دنیا کے سب سے بڑے تیل کے برآمدکار سعودی عرب کی عالمی مارکیٹ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے