نینوذرات کی بدولت دل کی شریانوں کو اندر سے صاف کیا جاسکتا ہے

نینوذرات کی بدولت دل کی شریانوں کو اندر سے صاف کیا جاسکتا ہے

مشی گن: اسٹینفرڈ اورمشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی کے ماہرین نے خاص طرح کے نینوذرات بنائے ہیں جو دل کی شریانوں میں جاکر اندرونی طور پر انہیں صاف کرکے دل کے دورے سے بچاسکتے ہیں

مشی گن یونیورسٹی کے معاون پروفیسر برائن اسمتھ کہتے ہیں کہ خفیہ رہنے والے ’ٹروجن ہارس‘ ذرات دی گئی ہدایات کے مطابق شریانوں کی چربی اور کچرا وغیرہ صاف کرسکتے ہیں۔ یہ طریقہ شریانوں کی تنگی کا بہترین علاج ثابت ہوسکتا ہے جو امریکہ سمیت کئی ممالک میں اموات کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔
نینوذرات کو کچھ ایسے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ شریانوں میں جم جانے والے مخصوص خلیات (سیلز) پر ہی عمل کرتے ہیں۔ نینوذرات میں دوا بھری ہوتی ہے جو خلیات کے اندرجاکر انہیں گھلادیتی ہے۔ یہ پلاک کی عین اندر جاکر خلئے کے اہم حصے میکروفیج پر اثر ڈالتی ہے اور اسے سکیڑدیتی ہے۔ اس طرح بہت مؤثر انداز میں شریانوں کی پلاک کم کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر برائن کہتے ہیں کہ بہت جلد اس کی انسانی آزمائش شروع کی جائے گی اور توقع ہے کہ اس سے کئی طرح کے ہارٹ اٹیک کو ٹالا جاسکے گا اور کسی طرح کے ضمنی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔
ماہرین نے نینوذرات میں بھرنے کے لیے ذہانت سے بھرپور دوا بنائی ہے۔ یہ امنیاتی خلئے کے اندر موجود بڑے اور اہم حصے میکروفیج کے خاتمے یا سکڑنے کا پیغام دیتی ہے۔
’ ہم نے تحقیقات میں غور کیا ہے کہ دوا کی ہدایات سے میکروفیج مردہ خلیات کو ختم کرنا شروع کرتا ہے ۔ یہ وہی خلیات ہیں جن کا ڈھیر جمع ہوکر خون کے بہاؤ میں رکاوٹ بن جاتا ہے،‘ پروفیسر برائن نے بتایا۔
ماہرین کے مطابق اس طریقے کو دل کی شریانوں کے علاوہ دیگر کاموں میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کسی خلئے کے باہر کی بجائے دوا کو اندر تک بھیجنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگلے مرحلے پر اسے بڑے جانداروں، پھر انسانی ٹشوز اور آخر میں انسانوں پر آزمایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں

او بلڈ گروپ والے افراد میں کووڈ 19 کا خطرہ کم ہوتا ہے

او بلڈ گروپ والے افراد میں کووڈ 19 کا خطرہ کم ہوتا ہے

تحقیق: ابتدائی نتائج کے مطابق او بلڈ گروپ والے افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے