آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی

آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ آگ جان بوجھ کر لگائی گئی

کراچی: ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ آگ ایئرپورٹ کے ایک ویران حصے میں جھاڑیوں میں لگی تھی جس نے پھیل کر شاہین ایئرلائنز انٹرنیشنل (ایس اے آئی) کے گراؤنڈڈ طیارے بوئنگ 737 کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، جس کے بعد فائر ٹینڈرز نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا تھا

اتھارٹیز نے رن وے سے دور جائے وقوع جہاں کئی گراؤنڈڈ اور ریٹائرڈ طیارے برسوں سے کھڑے ہیں وہاں کا دورہ کیا، جس پر حکام کو یہ معلوم ہوا کہ آگ جھاڑیوں میں نہیں بلکہ طیارے میں لگائی گئی تھی جو اس سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔
سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) نے حقائق کی تلاش کے لیے 6 رکنی کمیٹی تشکیل دی تاکہ آتشزدگی کی وجوہات جان سکیں کہ گویا یا حادثہ تھا یا سازش جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کو آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کا بھی معلوم کرنے کا کہا گیا۔
سی اے اے کی جانب سے کہا گیا کہ 26 جنوری کو رات 10 بجکر 44 منٹ پر ‘انٹرنیشنل سیٹلائٹ کے مشرقی حصے جہاں سابقہ شاہین ایئر لائن انٹرنیشنل کے 12 ناکارہ طیارے کھڑے تھے، (وہاں) باڑ کے اندرونی و بیرونی حصوں کے درمیان آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے’۔
سول ایوی ایشن کے انجینئر توفیق شیخ کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی کو 30 جنوری تک اپنی رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا تاہم ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں واضح ہے کہ کسی نے طیارے کو آگ لگائی۔
سی اے اے کے سینیئر حکام نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ‘یہ ہماری ابتدائی تحقیقات ہیں کہ (آگ پہلے طیارے میں لگی) تاہم ہمارے لیے تشویش ناک بات یہ ہے کہ کوئی اتنی سخت سیکیورٹی کے مقام پر کیسے داخل ہوکر (جان بوجھ کر یا انجانے) میں آگ لگا سکتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہہ اب تک کچھ حتمی نہیں ہے اور واقعے پر تحقیقات جاری ہیں۔
شاہین ایئرلائن انٹرنیشنل کے ایک ارب 36 کروڑ روپے کے واجبات ادا نہ کرنے پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اکتوبر 2018 میں اس کے مقامی و بین الاقوامی آپریشنز معطل کردیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی سرکلر ریلوے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے

کراچی سرکلر ریلوے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے

کراچی: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نورِ حق کراچی میں پریس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے