سماعت کے دوران سندھ واٹر کمیشن اور واٹر کمیشن سیکریٹریٹ تحلیل

سماعت کے دوران سندھ واٹر کمیشن اور واٹر کمیشن سیکریٹریٹ تحلیل

اسلام آباد: کیس کی سماعت کے دوران عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے پراسیکیوٹر جنرل کو بلانے کا کہا تو نیب کی جانب سے وکیل نے عدالت سے 15 منٹ کا وقت طلب کیا

وکیل نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیں پراسیکیوٹر جنرل آجائیں گے جس پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں کیا مذاق کررہے ہیں’۔
چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ‘لاکھوں روپے کھا لیے گئے ایک بھی آر او پلانٹ نہیں لگا، سب پیسے کھا گئے ہڑپ کر گئے نیب کیا کر رہا ہے؟’۔
‘4 گواہان کی جگہ آپ مقدمے میں 200 گواہ بنالیتے ہیں، ایک سال میں مقدمات کا فیصلہ ہونا چاہیے 6، 6 سال گزر جاتے ہیں، ملک کی بہتری کے لیے آپ نے جو کردار ادا کرنا تھا آپ اس ہی میں رکاوٹ بن گئے ہیں’۔
جس مقصد کے لیے نیب بنا تھا وہ مقصد ختم ہوگیا ہے، نیب استحصالی ادارہ بن چکا ہے، آپ لوگ بندے کو بند کردیتے ہیں وہ سالوں جیل میں پڑا رہتا ہے اور پھر آپ کے اپنے بندے کہہ دیتے ہیں کہ اس بندے کا قصور نہیں’۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ‘نیب پر تو اربوں روپے کا جرمانہ ہونا چاہیے اور یہ جرمانہ آپ کی جیبوں سے جانا چاہیے حکومت ایک روپیہ نہیں دے گی’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ کے اندر کام کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے، آپ کے تفتیشی افسران میں صلاحیت ہی نہیں کہ وہ تفتیش کو انجام تک پہنچائیں’۔
گندم والا مقدمہ آپ کو یاد ہے اس میں ایک آدمی نے خودکشی کی، آپ نے اصل بندے کے خلاف چالان ہی نہیں کیا اور عزت دار آدمی نے خودکشی کرلی’۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ نیب کے مقدمات میں سزا کا تناسب کیا ہے جس پر نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سزا کا تناسب 70 فیصد ہے۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ ‘نیب کے ریفرنس دائر کرنے میں کتنا عرصہ لگتا ہے؟ 6 سال ؟’۔
عدالت میں بتایا گیا کہ نیب کی جانب سے آر او پلانٹس تنصیب میں پیسے کی خرد برد کے حوالے سے رپورٹ جمع کروائی گئی ہے۔
عدالت نے کراچی سندھ کول اتھارٹی کیس اور صاف پانی کیس کو یکجا کرنے کا حکم جاری کرتے ہوئے نیب کو مقدمات کے حوالے سے ریفرنس و دیگر معاملات ایک ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ‘کوئی کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ہے’۔
عدالت نے واٹر کمیشن کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ پر ایڈووکیٹ جنرل کو عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
صاف پانی کی فراہمی سے متعلق موثر قانون سازی کے لیے اقدامات کیے جائیں اور واٹر کمیشن کی سفارشات پر عملدرآمد سے متعلق سندھ کے ہر ضلع سے سہہ ماہی رپورٹ جمع کروائی جائے’۔
سپریم کورٹ نے سندھ واٹر کمیشن اور واٹر کمیشن سیکریٹریٹ کو تحلیل کرتے ہوئے انہیں اپنا تمام تر ریکارڈ چیف سیکرٹری سندھ کے حوالے کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔
کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی تشہیر کسی صورت نہیں چاہتا

مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی تشہیر کسی صورت نہیں چاہتا

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے