امریکی محکمۂ انصاف کا سفری پابندیوں کا دفاع

امریکہ کے محکمۂ انصاف نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی سفری پابندیوں کا دفاع کیا ہے اور ایک اپیل کورٹ سے استدا کی ہے کہ وہ قومی سلامتی کے مفاد میں اس پابندی کو بحال کر دے۔

امریکہ کہ محکمہ انصاف کی جانب سے 15 صفحات پر مشتمل دستاویزات پیش کی گئی اور یہ دلائل پیش گئے گئے کہ یہ ‘صدر کے اختیار کا قانونی عمل’ تھا اور مسلمانوں پر پابندی نہیں تھی۔

ٹرمپ انتظامیہ کے انتظامی حکم نامے میں کہا گیا تھا کہ عراق، شام، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے کوئی بھی شخص 90 دنوں تک امریکہ نہیں آ سکے گا۔ اس فیصلے کے خلاف امریکہ اور امریکہ کے باہر بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے اور امریکی ہوائی اڈوں پر افراتفری نظر آئی۔

اس مقدمے کی آئندہ سماعت منگل کو ہوگی جس میں پابندی کو برقرار رکھنے یا ختم کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی سان فرانسسکو میں جمع کروائی جانے والی اپیل کا مقصد جمعے کو دیے جانے والے فیصلے کو پلٹنا تھا جسے ریاست واشنگٹن کے ایک وفاقی جج نے صادر کیا تھا۔

جج کا کہنا تھا کہ یہ پابندی غیرقانونی ہے اور ریاست کے مفاد کے لیے نقصان دہ ہے۔

اس سے قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر امریکہ میں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری اس جج پر ہو گی جس نے ان کا حکم نامہ معطل کیا ہے۔

انھوں نے سفری پابندیوں کے معطلی کے عدالتی حکم کے بعد عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے سرحدی حکام کو ہدایت دی کہ وہ امریکہ آنے والے لوگوں کی محتاط طریقے سے جانچ کریں۔

یہ بھی پڑھیں

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ

سعودی عرب: دنیا کے سب سے بڑے تیل کے برآمدکار سعودی عرب کی عالمی مارکیٹ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے