عوام کےمفاد اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کر رہے ہیں

آج سپریم کورٹ میں بلوچستان سول اسپتال خودکش حملہ ازخودنوٹس کیس کی سماعت ہوئی ، وزارت داخلہ کی جانب سے کمیشن کی رپورٹ پرجواب جمع کرا دیا گیا، وزارت داخلہ کی کمیشن کی جانب سےجمع شواہد پیش کرنے کی درخواست کی گئی.

جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جوکام تحقیقاتی ادارےکرتےہیں وہ کمیشن نے کیا ہے ، کیونکہ تفتیشی افسرکی تربیت ہوتی ہے وہ ایمانداری سےکام کرتے ہیں.

ہم عوام کے وسیع تر مفاد میں اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کررہے ہیں، ہمارے علم میں ہے کہ صوبہ پنجاب میں بھی کچھ کالعدم تنظیمیں موجود ہیں انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اورصوبائی حکومتوں کواس حوالے سے دیکھنا ہوگا.

وکیل وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ کمیشن کی رپورٹ کومن و عن قبول کرتے ہیں تاہم گذارش ہے کہ کمیشن رپورٹ میں وزیرکی جگہ وزارت کا لفظ استعمال کیا جائے.

جسٹس امیر ہانی مسلم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شواہد کو دیکھتے ہوئےفیصلہ دیا تو زیادہ سخت ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ عدالت ایک شخص کے مفادات کو دیکھے یا قومی مفاد کو؟انہوں نے مزید کہا کہ کوئی حکومت نہیں چاہتی ہے کہ ایسے واقعات ہوں، ہم سمجھتےہیں کہ انسانی غلطی ہوسکتی ہے، ایک شخص تباہی مچاتا ہےاسے پکڑنا آسان کام نہیں ہے.

بعد ازاں سپریم کورٹ نےکیس کی سماعت 2ہفتے تک کے لیے ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں

ڈیڈ لاک سے بچاؤ کے لیے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی حرج نہیں

اسلام آباد: عمران خان کا حوالہ دے کر حکومتی ترجمان نے کہا کہ ’مولانا فضل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے