تین گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی طالبہ ندا جمالی

تین گولڈ میڈل جیتنے والی پاکستانی طالبہ ندا جمالی

کراچی: ضلع بدین کی رہائشی 15 سالہ ندا جمالی جب امریکہ کے لیے روانہ ہوئی تھیں تو ان کی شناخت ایک ذہین طالبہ کی تھی۔ لیکن صرف چار ماہ کی تربیت میں انھوں نے ریسلنگ میں تین گولڈ میڈل حاصل کر کے اپنی ایک نئی شناخت اور مقام بنا لیا

امریکہ میں طلبہ کی فیلوشپ ’یس (یوتھ ایکسچینج اینڈ سٹڈی) پروگرام‘ کے تحت وہاں جانے والی ندا ایک سال کے لیے ریاست کیلیفورنیا کے شہر یوبا کے ہائی سکول میں زیر تعلیم ہیں۔
ندا جمالی پاکستان کے ان 77 طالبعلموں میں شامل ہیں جن کا 6500 درخواست گزاروں میں سے اس فیلوشپ کے لیے انتخاب کیا گیا تھا۔
ندا جمالی کی والدہ ڈاکٹر زید جمالی نےبتایا کہ ندا بچپن سے جوڈو کراٹے کی کلاسیں لیتی تھیں لیکن ریسلنگ کی کوئی پریکٹس نہیں تھی اور جوڈو کی یہ کلاسیں بھی کچھ عرصے میں معطل ہو گئیں کیونکہ انسٹرکٹر وہاں سے چلا گیا تھا۔
’ندا واحد لڑکی تھی جو جوڈو سیکھتی تھی۔ میں نے خود بھی جوڈو سیکھا تھا، میرے والد میری حوصلہ افزائی کرتے تھے تو میں نے بھی اپنے بچوں کو فزیکل سپورٹس میں سپورٹ کیا۔‘
ڈاکٹر زید کا کہنا ہے کہ یہاں دیہی سماج میں ریسلنگ سیکھنا تو ممکن ہی نہیں تھا لیکن ندا کو بچپن سے ہی شوق تھا۔
یہ شوق اس میں کیسے آیا اور وہ کس سے متاثر ہوئی، مجھے معلوم نہیں ہے کیونکہ میں نے اس کو کبھی ٹی وی یا انٹرنیٹ پر ریسلنگ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔‘
انھوں نے مزید بتایا ’ندا خاموش طبیعت کی مالک لڑکی ہے، جھگڑالو نہیں ہے جو ہم سجھیں کہ اس لیے ہو سکتا ہے کہ ریسلنگ میں گئی ہو۔ جب وہ امریکہ جارہی تھی تو میں نے اس سے کہا تھا کہ تمھیں ریسلنگ کا شوق ہے اگر موقع ملے تو ریسلنگ میں حصہ لینا اور اس نے ایسا ہی کیا۔‘
اگست میں امریکہ پہچنے والی ندا جمالی کہتی ہیں کہ ریسلنگ امریکہ میں موسم سرما کا کھیل ہے اور اسی ماہ انھوں نے اپنی تیاری شروع کی اور اس کے بعد نومبر سے مقابلوں کا آغاز ہوا۔
’مجھے بچپن سے ریسلنگ کا شوق تھا لیکن امریکہ آنے سے قبل میں نے کوئی تربیت حاصل نہیں کی تھی۔ ہماری روزانہ ایک گھنٹہ ویٹ لفٹنگ اور دو گھنٹے کی ریسلنگ کی پریکٹس ہوتی ہے۔‘
ندا جمالی کا کہنا ہے کہ انھیں یقین نہیں تھا کہ وہ تین گولڈ میڈل حاصل کر لیں گی۔ اس کی وجہ وہ بتاتی ہیں کہ نئے ریسلر کے پاس تجربہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ اتنے ماہر ہوتے ہیں۔
’میں نے جن سے ریسلنگ کی وہ بچپن سے ریسلنگ کر رہے ہیں یعنی سات آٹھ سالوں سے لیکن میں محنت اور کوچنگ کی بدولت کامیاب ہو گئی۔‘
بچپن سے وہ کھیلوں میں دلچسپی رکھتی تھیں لیکن ایسا کوئی واقعہ یاد نہیں ہے کہ کسی سے لڑائی ہوئی اور جس نے انھیں ریسلنگ کی طرف مائل کیا ہو۔
ندا جمالی انڈین اداکار عامر خان کی ریسلنگ پر مبنی فلم دنگل سے بھی متاثر ہیں۔
گیتا کماری کی جو کہانی اور جدوجہد ہے وہ دنیا کی ہر گرل ریسلر کے لیے باعث کشش اور سبق آموز ہے۔
ڈبیلو ڈبلیو ای کے نامور ریسلرز ڈوین جانسن المعروف راک اور جان سینا ندا جمالی کے پسندیدہ ریسلرز ہیں، لیکن وہ راک کی ذاتی زندگی اور جدوجہد سے زیادہ متاثر ہیں۔
ندا کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی راک یا جان سینا کا داؤ پیچ استعمال نہیں کیا۔
امریکہ میں ریسلر اپنے اپنے ریجن میں کوالیفائی کرتے ہیں وہاں سے اگلے درجے میں جاتے ہیں جس کے بعد وہ دیگر ریاستوں میں ریسلنگ کرتے ہیں۔
اس پورے عمل میں کئی سال لگ جاتے ہیں لیکن ندا جمالی کے پاس محدود وقت ہے کیونکہ وہ ایک سال کی فیلوشپ پر ہیں۔
انھوں نے کہا کہ یہ حقیقیت ہے کہ اگر وہ امریکہ نہ آتیں تو ریسلنگ کا یہ موقع نہیں ملتا۔
’پاکستان میں وومین ریسلنگ عام کھیل نہیں ہے تاہم پنجاب میں وومین ریسلنگ کے کچھ مواقع ہیں، سندھ میں میں نے کبھی وومین ریسلنگ اکیڈمی یا فیمیل ٹورنامنٹ کے بارے میں نہیں سنا ہے۔ ریسلنگ صرف یہ نہیں ہے کہ آپ مضبوط ہیں بلکہ یہ آپ کی شخصیت کے دیگر پہلووں کو اجاگر کرتی ہے۔‘
ندا جمالی کی ریسلنگ ٹیم نے ریسلنگ ہیمر بھی جیتا ہے جو پورا سال اس ٹیم کے پاس ٹرافی کے طور پر رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی

سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی

کراچی: سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں 100 ارب کی کرپشن بے نقاب ہوگئی، سندھ لوکل …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے