وزیر اعلیٰ ہاؤس تک عام عوام کی رسائی تو دور کی بات ہے وہاں اراکین اسمبلی تک کے لیے جانا مشکل ہے

وزیر اعلیٰ ہاؤس تک عام عوام کی رسائی تو دور کی بات ہے وہاں اراکین اسمبلی تک کے لیے جانا مشکل ہے

بلوچستان: جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں ان میں سے یہ بدترین حکومت ہے اس لیے تبدیلی ضرور آئے گی بلوچستان جس صورتحال سے دوچار ہے اس میں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو تمام جماعتوں کو ساتھ لیکر چلے

جام کمال کی سربراہی میں بلوچستان کی مخلوط حکومت جن جماعتوں پر مشتمل ہے ان میں بلوچستان عوامی پارٹی، تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) اورہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی شامل ہیں جبکہ اسے جمہوری وطن پارٹی کے واحد رکن کی بھی حمایت حاصل ہے ۔
65 اراکین کی ایوان میں حکومت کو 41 اراکین کی حمایت حاصل ہے جن میں بلوچستان عوامی پارٹی کے 24 اراکین ، تحریک انصاف کے سات اراکین ، عوامی نیشنل پارٹی کے چار اراکین، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے تین اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے دو اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ جمہوری وطن پارٹی کا کا واحد ممبر صوبائی اسمبلی بھی اتحاد میں شامل ہے۔
قدوس بزنجو کا کہنا تھا کہ جب تبدیلی کی جانب معاملات چل پڑیں گے تو اس وقت پتہ چل جائے گا کہ اکثریت کس کے پاس ہے ۔
انھوں نے کہا کہ جہاں تک مخلوط حکومت میں شامل سب سے بڑی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کی بات ہے تو اس کے اکثر اراکین وزیر اعلیٰ سے ناراض ہیں ۔
گورنر ہاﺅس میں وزرا کی جو تقریب حلف برداری ہوئی اس میں نظر آ رہا تھا کہ اس تقریب میں بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے کتنے اراکین شریک تھے۔’
تاہم تحریک انصاف بلوچستان کے صدراور وزیر برائے تعلیم سردار یار محمد رند کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلی میں جام کمال خان بہترین چوائس ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف پہلے بھی ان کی حمایت کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی ۔
بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف تین جماعتوں پر مشتمل ہے جبکہ آزاد حیثیت سے کامیاب ہونے والے نواب اسلم رئیسانی بھی حزب اختلاف کا حصہ ہیں ۔
حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت جمیعت العلماءاسلام کے 11 اراکین، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے دس اراکین اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کا ایک رکن ہے ۔
بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ملک اسکندر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ جو لوگ تبدیلی کی بات کررہے ہیں ان کو ہم نے بتایا ہے کہ 23اراکین ہمارے ہیں، آپ لوگ دس اراکین لائیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو تبدیل کرنے کے لیے جب دس اراکین حکومتی بینچوں کو چھوڑ کرآئیں گے تو پھر ہم آگے بات کریں گے کہ وزیر اعلیٰ کون ہوگا ۔
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا ہے کہ ‘سپیکر بلوچستان اسمبلی تبدیلی کی جو بات کررہے ہیں۔ میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ان کی ذاتی سوچ ہے اور وہ یہ بات کن وجوہات کی بنیاد پر کررہے یہ وہ خود بہتر بتا سکتے ہیں۔’
ان کا موقف تھا کہ کسی بھی حکومت کی کارکردگی کو اس بات سے تولا جاتا ہے کہ اس نے عوام کے لیے کیا کیا۔
‘قدرتی آفات میں ریلیف ، قانون سازی ، اچھی طرز حکمرانی ، کینسر ہسپتال سمیت دیگر حوالوں سے حکومت نے جو اقدامات کیے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔’
وزیر اعلیٰ نے میڈیا کے اراکین کے ساتھ گفتگو میں مزید کہا کہ وہ سپکیر قدوس بزنجو کی باتوں پر زیادہ تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ ایک جذباتی رکن ہیں اور وہ ان کی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے ۔
میڈیا کے نمائندوں سے وزیراعلیٰ نے جو بات کی اس پر سپیکر نے ان کے خلاف اسمبلی میں ایک تحریک استحقاق جمع کی ہے۔
سپیکر قدوس بزنجو نے تحریک استحقاق میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ وزیر اعلیٰ نے انھیں جذباتی انسان قرار دینے کے علاوہ کہا کہ وہ میری باتوں کواہمیت نہیں دیتے۔
سپیکر نے کہا کہ وہ اسمبلی کے ناظم ہونے کے علاوہ ایک عوامی نمائندے بھی ہیں لیکن وزیر اعلیٰ نے ان کے خلاف غیر پارلیمانی اور غیر مہذب الفاظ استعمال کیے ہیں۔
سپیکر کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ کے ان ریمارکس سے نہ صرف ان کا بلکہ پورے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے لہذا اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے مطابق یہ معاملہ استحقاق کمیٹی کے حوالے کیا جائے ۔
سابق دور حکومت میں قدوس بزنجو نے 2018 کے اوائل میں بلوچستان کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری کے خلاف بغاوت کی تھی۔
ان کی بغاوت کے نتیجے میں نہ صرف نواب ثناءاللہ زہری کو استعفیٰ دینا پڑا تھا بلکہ قدوس بزنجو خود تین ماہ کی مدت کے لیے وزیر اعلیٰ بھی بن گئے تھے ۔
اب جب وہ ایک بار پھر حاضر وزیر اعلی کے خلاف میدان میں آ گئے ہیں تو دیکھنا ہوگا کہ کیا وہ کیا جام کمال کو بھی استعفیٰ دینے پر مجبور کرسکتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پاک ایران سرحد پر آمد ورفت معطل

کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پاک ایران سرحد پر آمد ورفت معطل

کوئٹہ: بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے