شانگلہ میں کرپٹو کرنسی کے ’مائیننگ فارم‘ کو قبضے میں لے کر دو افراد کو گرفتارکر لیا

شانگلہ میں کرپٹو کرنسی کے ’مائیننگ فارم‘ کو قبضے میں لے کر دو افراد کو گرفتارکر لیا

شانگلہ: یہ مائیننگ فارم غیر قانونی طور پر نصب کیا گیا تھا جہاں سے ڈیجیٹل کرنسی بنائی بھی جاتی تھی اور پھر ویب سائٹس پر فروخت اور اس پر کمیشن لینے کا کاروبار بھی کیا جا رہا تھا

جن افراد پر اس مائیننگ فارم کو چلانے کا شک ہے ان میں سے ایک کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ اور دوسری کا لاہور سے ہے۔
پولیس کے مطابق یہ مائیننگ فارم پہاڑی علاقے میں تعمیر کیا گیا تھا جبکہ اس سارے نظام کو اوکاڑہ سے آن لائن کنٹرول کیا جا رہا تھا۔
مائیننگ فارم بنیادی طور پر ڈیجیٹل کرنسی کا ٹیکنیکل ڈیٹا سنٹر ہوتا ہے جہاں پر بٹ کوائن یا دیگر کریپٹو کرنسی تیار کی جاتی ہیں۔
اسے مائیننگ فارم اس لیے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ مستقل طور پر ایک طریقہ کار کے تحت کرنسی تیار کی جاتی ہے جس کے لیے وافر مقدار میں انرجی یعنی بجلی اور تکینیکی مدد چاہیے ہوتی ہے۔
ڈیجیٹل کرنسی بنیادی طور پر الیکٹرانک سطح پرادائیگی یا پےمنٹ کا طریقہ کار ہے۔ اس سے آپ خریدای کر سکتے ہیں لیکن اب تک یہ مخصوص مقامات پر ہی خرچ کی جا سکتی ہے۔ اس کے ذریعے آپ ویڈیو گیمز یا سوشل نیٹ ورکس پر ادائیگی کر سکتے ہیں۔
اس وقت دنیا میں لگ بھگ 5000 کرپٹو کرنسیز استعمال ہو رہی ہیں جن میں بِٹ کوائن سرفہرست ہے۔ ایک بٹ کوائن کی قیمت اس وقت 8300 ڈالر کے لگ بھگ ہے جبکہ ماضی میں یہ 20 ہزار ڈالر کی حد تک بھی پہنچ چکی ہے۔
کرپٹوکرنسی کی کُل مارکیٹ ایک اندازے کے مطابق 230 بلین ڈالرز کے لگ بھگ ہے۔ مارکیٹ پر نظر رکھنے والے افراد کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے تک اس کی مارکیٹ 400 بلین ڈالرز سے زیادہ کی تھی۔
شانگلہ میں موجود کرپٹوکرنسی کے مائیننگ فارم میں ڈیجیٹل مشینیں نصب تھیں۔ اس میں ڈیجیٹل کرنسی یا کریپٹو کرنسی کے 65 یونٹس نصب تھے اور ہر یونٹ کے بارہ چینل تھے یعنی اس فارم سے 780 چینلز کام کر رہے تھے جن کے لیے درکار بجلی مقامی سطح پر نصب ٹربائن سے حاصل کی جا رہی تھی۔
ان مشینوں پر ڈیجیٹل کرنسی بنائی جاتی ہے اور پھر ویب سائٹس پر فروخت کے لیے رکھ دی جاتی ہے۔ اس میں ملوث افراد یہ فروخت بھی کرتے ہیں اور پھر اس پر کمیشن بھی وصول کرتے ہیں۔
تحقیقاتی ادارے کے مطابق اس فارم کو قبضے میں لینے کے لیے بھاری مشینری کو ٹرکوں میں لایا جائے گا چونکہ اس وقت بارش اور برفباری سے راستے بند ہیں اس لیے چند روز میں مشینری منتقل کر دی جائے گی۔
یہ فارم شانگلہ کے ایک ایسے دیہی علاقے میں قائم کیا گیا تھا جو پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے تحقیقاتی ٹیم اور پولیس اہلکاروں کو پیدل جانا پڑا جہاں دو دو فٹ تک برف پڑی تھی۔
اس مائیننگ فارم کے لیے سرد موسم کی ضرورت ہوتی ہے اور 220 وولٹ کی مکمل بجلی مستقل طور پر چاہیے ہوتی ہے۔ اگرچہ یہ دیہی علاقہ ہے لیکن یہاں مقامی سطح پر بجلی کے ٹربائن نصب ہیں اور موسم یہاں سرد ہوتا ہے۔
اہلکاروں نے بتایا کہ ملزمان ٹربائن اور بجلی فراہم کرنے والوں کو ماہانہ 90 ہزار روپے تک بل کی ادائیگی کرتے تھے۔
اہلکاروں نے بتایا یہ مشینری تپش پیدا کرتی ہے حالانکہ باہر برف پڑی تھی لیکن اس پانچ مرلے کے مکان میں جہاں مشینری نصب تھی وہاں لوگوں کو پسینہ آرہا تھا۔
ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یہ مائیننگ فارم پہلے سوات کے دیگر علاقوں میں نصب کیا گیا تھا۔ ایک اطلاع یہ ہے کہ یہ فارم چترال میں نصب کیا گیا تھا لیکن بجلی کی ترسیل میں کمی کی وجہ سے یہاں شانگلہ منتقل کر دیا گیا تھا اور تقریباً ایک سال سےوہاں کام کر رہا تھا۔
تحقیقاتی ادارے کے اہلکاروں کے مطابق یہ پاکستان میں پکڑا جانے والا سب سے بڑا ڈیجیٹل کرنسی فارم ہے۔
انھیں یہ اطلاع تھی کہ اس جگہ پر کوئی ایسا مائیننگ فارم قائم کیا گیا ہے جس سے بیرون ممالک سے بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر ڈیجیٹل کرنسیوں کا کاروبار کیا جا رہا ہے۔
ان اہلکاروں نے مزید کہا کہ اس مائیننگ فارم کو تحویل میں لینے کے لیے وہ اس انتظار میں تھے کہ اس میں ملوث افراد موقع پر موجود ہوں اور وہ اس کے انتظار میں تھے۔
انھوں نے کہا کہ جب انھیں معلوم ہوا کہ متعلقہ افراد موقع پر پہنچ گئے ہیں تو انھوں نے چھاپہ مارا اور ان افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان پہلے یہ تسلیم ہی نہیں کر رہے تھے کہ وہ اس کاروبار میں ملوث ہیں۔
شانگلہ کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ظاہر شاہ بتایا کہ شانگلہ کے علاقے برکانا شاہ پور خوڑ کے قریب ایک گھر میں خفیہ طور پر بھاری مشینری نصب تھی جس سے انھیں بھی تشویش لاحق تھی۔ انھوں نے کہا کہ وہ حال ہی میں یہاں تبدیل ہو کر آئے ہیں اور انھیں تھانیدار نے اسں کی اطلاع دی تھی جس پر انھیں نے متعلقہ حکام کو اطلاع کردی تھی۔
انھوں نے بتایا کہ اس مائیننگ فارم کے دونوں افراد انھیں ایسا تاثر ہی نہیں دیتے تھے کہ یہ کوئی غیر قانونی کام کیا جا رہا ہے۔
کریپٹو کرنسی کا کاروبار دنیا بھر میں ہو رہا ہے جس میں اب تک 5000 سے زیادہ کرنسیز آ چکی ہیں لیکن اس وقت ٹاپ پر بٹ کوائن ہے۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مئی 2017 کو پاکستان میں اس کرنسی کے استعمال، خرید وفروخت کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
گرفتار افراد اس کارروبار کے لیے پاکستان کی زمین استعمال کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ کے لیے پاکستان کا روٹ استعمال کر رہے تھے اور بجلی استعمال کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

یہ دوسری بار ہے جب عالمی بینک نے ان قرضوں کی فراہمی التوا میں ڈال دی

یہ دوسری بار ہے جب عالمی بینک نے ان قرضوں کی فراہمی التوا میں ڈال دی

اسلام آباد: اگر پاکستان تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے