دریائے راوی میں کشتی ڈوبنے سے متعدد افراد لاپتہ

حادثے کا شکار ہونے والی کشتی اوکاڑہ سے ننکانہ جاتے ہوئے دریائے راوی میں زیر تعمیر لوہے کے پل سے ٹکرائی، جس کے بعد کشتی میں پانی بھرگیا اور وہ ڈوب گئی۔

کشتی ڈوبنے سے 70 سے 80 افراد کے ڈوب جانے کی اطلاع تھیں۔

ڈوبنے والوں میں سے 40 سے 45 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، جبکہ لاپتہ ہونے والے مزید 15 سے 20 افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔

دوسری جانب ایک مقامی صحافی عتیق الرحمٰن نے بتایا کہ کشتی میں 250 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی، کشتی میں سوار ہونے والے افراد کی حتمی تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی، تاہم اس میں 150 افراد کے سوار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

کشتی میں 50 کے قریب موٹر سائیکلیں بھی تھیں، جب کہ چھوٹے مویشی بھی دوسرے مقام منتقل کیے جا رہے تھے، حادثے کے بعد کئی افراد لاپتہ بھی ہوگئے۔

حادثے کے بعد جائے وقوع پر اوکاڑہ سے امدادی ٹیمیں الیکٹریکل کشتیوں سمیت پہنچ گئیں اور فوری طور پر 70 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا، ریسکیو کارروائیوں کے دوران ایک ریسکیو اہلکار بھی زخمی ہوا، جسے بعد ازاں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

یاد رہے کہ اوکاڑہ میں دریائے راوی کے راستے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک پہنچنے کے لیے سفری سہولیات کے لیے کشتیوں کو استعمال کیا جاتا ہے، پنجاب سمیت سندھ میں بھی ایسے کئی علاقے موجود ہیں جن کے درمیان دریا آنے کے باعث سفری سہولیات کے لیے کشتیوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔

ان کشتیوں میں بیک وقت لوگ، مویشی اور اشیاء خورونوش سمیت دیگر کئی چیزیں رکھی جاتی ہیں، یہ کشتیاں عام کشتیوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی ہوتی ہیں۔

دریائے راوی میں اس سے پہلے بھی اسی مقام پر 1997 میں ایک کشتی کے ساتھ حادثہ پیش آیا تھا، جس کے نتیجے میں 150 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے ڈینگی بخار نے وبا کی صورت اختیار کرلی

مچھر کے کاٹنے سے ہونے والے ڈینگی بخار نے وبا کی صورت اختیار کرلی

پنجاب: سرگودھا میں 50 سے زائد مقامات پر ڈینگی لاروا کی نشاندہی ہوچکی ہے جس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے