عالمی عدالت انصاف نے یہ فیصلہ گیمبیا کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر دیا

عالمی عدالت انصاف نے یہ فیصلہ گیمبیا کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر دیا

روہنگیا: عالمی عدالت انصاف روہنگیا مسلمانوں کی مبینہ نسل کُشی کے خلاف میانمار پر لگائے جانے والے الزامات پر مبنی مقدمہ سننے کی مجاز ہے

جمعرات کو عالمی عدالتِ انصاف کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے کیا۔ انھوں نے مدعی ملک گیمبیا کو مقدمے کی کارروائی کو مزید آگے بڑھانے کی اجازت دینے کا فیصلہ بھی سنایا۔
اس فیصلے کے ذریعے عالمی عدالتِ انصاف میانمار میں مزید تشدد کو روکنے کے لیے عارضی ہنگامی اقدامات اٹھا پائے گی۔
عالمی عدالت انصاف نے یہ فیصلہ گیمبیا کی جانب سے دائر کردہ اس درخواست پر دیا ہے جس میں استدعا کی گئی تھی کہ میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد کو روکنے، ان کو محفوظ بنانے اور ماضی میں ان کے خلاف کیے گئے اقدامات کے شواہد کو محفوظ رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے جائیں۔
گذشتہ ہفتے اس حوالے سے عالمی عدالت انصاف میں ہوئی کارروائی کے دوران میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے 17 رکنی عدالتی بینج سے استدعا کی تھی کہ اس مقدمہ کو اس فورم پر نہ سنا جائے۔ عدالت کے روبرو انھوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ غیر متناسب فوجی قوت کے استعمال کے نتیجے میں شاید چند سویلین ہلاک ہوئے ہوں مگر یہ اقدامات نسل کشی کے زُمرے میں نہیں آتے۔
مغربی افریقہ کے مسلمان اکثریتی ملک گیمبیا نے اس حوالے سے گذشتہ برس نومبر میں اقوام متحدہ کی اعلی عدالت سے رجوع کیا تھا، جہاں مختلف ممالک کے درمیان تنازعات کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اس مقدمے کی سماعت ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور فی الحال گیمبیا کی جانب سے صرف ہنگامی ابتدائی اقدامات اٹھانے کی استدعا کی گئی ہے۔
اس کیس کا مکمل فیصلہ آنے میں برسوں بھی لگ سکتے ہیں۔
عالمی عدالت انصاف میں ہونے والے فیصلے حتمی ہوتے ہیں اور ان کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی تاہم عدالت انصاف کے پاس اس طرح کا کوئی طریقہ کار نہیں ہے جس کے ذریعے یہ اپنے فیصلوں پر مکمل عملدرآمد کو ممکن بنا سکے۔
2017 میں میانمار میں فوجی کریک ڈاؤن کے بعد 730000 سے زائد روہنگیا میانمار سے نکلنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ یہ تمام مہاجرین اب ہمسایہ ملک بنگلہ دیش میں قائم عارضی پناہ گزیں کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔
اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ میانمار میں فوجی مہم کا آغاز ‘نسل کشی کی نیت’ سے کیا گیا تھا۔
میانمار حکومت کی جانب سے بنائے گئے ایک تفتیشی پینل نے قرار دیا ہے کہ فوج نے شاید کچھ جرائم کا ارتکاب کیا ہو مگر اس بات کا اشارہ نہیں ملتا کہ یہ سب نسل کشی کی نیت سے کیا گیا تھا۔ میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کرے گی اور فوجی احتساب اور قوانین کے تحت ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی، بشرطیکہ اس حوالے سے ٹھوس شواہد موجود ہوئے تو۔
گمبیا کے وزیر قانون ابوبکر تمباڈو وہ شخص ہیں جن کی کوششوں کی بدولت میانمار کی رہنما اور نوبل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کو ہیگ میں واقع عالمی عدالت انصاف میں پیش ہو کر یہ تردید کرنی پڑی تھی کہ ان کی حکومت ملک کی روہنگیا اقلیت کے قتل عام میں ملوث نہیں تھی۔
میں نے محسوس کیا کہ یہ سب اس سے کہیں زیادہ تشویشناک ہے جتنا ہم ٹی وی کی سکرینوں پر دیکھ رہے تھے۔‘
’فوج اور عام افراد روہنگین افراد کے خلاف منصوبہ بندی کے تحت حملے کر رہے تھے، ان کے مکانات کو نذرِ آتش کرتے، ماؤں کی گودوں سے ان کے بچے چھین کر بھڑکتی ہوئی آگ میں پھینک دیتے، مردوں کو اکٹھا کر قتل کرتے، عورتوں کا گینگ ریپ کرنے کے علاوہ ہر طرح کی جنسی زیادتیوں کا شکار بناتے۔‘
(میانمار میں بھی) طریقہ بالکل ویسا ہی تھا۔ غیر انسانی عمل، ان کو مختلف ناموں سے پکارنا، اس میں نسل کشی کی تمام بنیادی نشانیاں تھیں۔ میں نے یہ سوچا کہ یہ میانمار کے حکام کی جانب سے روہنگیا گروہ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی ایک کوشش تھی۔‘
میانمار نے نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گذشتہ ہفتے ایک ایگزیکٹیو سمری جاری کی تھی جس میں ان کا کہنا تھا کہ سرکاری تفتیش سے یہ پتا چلا ہے کہ درحقیقت یہ مسلمان شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں میانمار کی فوج کی جانب سے ’حادثاتی انداز‘ میں دیا گیا ردعمل تھا۔
میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی نے عالمی عدالت انصاف میں کہا تھا کہ میانمار میں ہوئی تفتیش سے یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس معاملے میں کسی بھی نوعیت کی بین الاقوامی دخل اندازی نہیں ہونی چاہیے۔
تمباڈو کہتے ہیں کہ کچھ نہ کرنا ان کے لیے کوئی آپشن نہیں تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آخر کار یہ انسانیت سے متعلق ہے۔‘
’ذاتی طور پر میں نے جو کچھ دیکھا اور سنا اس سے میں متنفر ہوا۔ پیشہ وارانہ حیثیت میں میں نے سوچا کہ میانمار کی اس کے اعمال پر باز پرس ہونی چاہیے اور ایسا کرنے کا ایک طریقہ یہ تھا کہ اس معاملے کو عالمی عدالتِ انصاف میں لے جایا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

ترک اور روسی صدر کا ادلب سے متعلق معاہدوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ

ترک اور روسی صدر کا ادلب سے متعلق معاہدوں پر عملدرآمد کے عزم کا اعادہ

انقرہ: شام میں روس سے کشیدگی پر ترکی نے امریکا سے پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے