امریکا کو پاکستان- چین تعلقات پر الزامات لگانے سے قبل خود غور کرنا چاہیے

امریکا کو پاکستان- چین تعلقات پر الزامات لگانے سے قبل خود غور کرنا چاہیے

چین : پاکستان میں چینی سفارتخانے نے امریکی نائب سیکرٹری برائے جنوبی و وسطی ایشیاء ایلس ویلز کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں پابندیوں کی چھڑی لے کر گھومتا ہے

مختلف ممالک کو بلیک لسٹ کرتا رہتا ہے اور یہ سب وہ اپنے معاشی مفادات کے لیے کرتا ہے۔ چین نے کسی ملک کو قرضوں کی ادائیگی کے لیے جبری طور پر مجبور نہیں کیا، چین پاکستان سے بھی غیر معقول مطالبات نہیں کرے گا۔ امریکا کو الزامات لگانے سے قبل اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اس نے پاکستان کے ساتھ کیا کیا؟ اور پاکستان کو کیا دیا؟ اگر امریکا کو واقعی پاکستان کا خیال ہے تو اسے باہمی تعلق استوار کرنے کے لیے پاکستان کو فنڈز دینے چاہئیں۔
ایلس ویلز نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران کہا تھا کہ سی پیک منصوبوں میں شفافیت نہیں، پاکستان کا قرض چینی سرمایہ کاری کی وجہ سے بڑھ رہا ہے۔
پاکستانی اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے تحت پاکستان کا کل بیرونی قرضہ 110 ارب امریکی ڈالرز ہے جبکہ سی پیک کے لیے کل قرضہ 5.8 ارب امریکی ڈالرز ہے جو کہ پاکستان کے کل بیرونی قرضہ جات کا 5.3 فیصد ہے۔ یہ چینی قرضہ 20 سے 25 برس کے دورانیہ 2 فیصد شرح سود پر دوبارہ ادائیگیوں کا آپشن رکھتا ہے

یہ بھی پڑھیں

پی ڈی ایم کے جلسوں سے عمران خان کی حکومت نہیں جائے گی

پی ڈی ایم کے جلسوں سے عمران خان کی حکومت نہیں جائے گی

اسلام آباد: وزیرریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے