روس غیر مصدقہ معلومات کو ہتھیار بنا رہا ہے

برطانوی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ روس سائبر حملوں کے ذریعے مغربی ممالک میں جمہوریت اور اہم افراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہا ہے۔

سر مائئکل فیلن نے کہا کہ ماسکو ’غیر مصدقہ معلومات کو بطور ہتھیار‘ اپنا اثر و رسوخ بڑھانے، مغربی ممالک میں حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے، اور نیٹو کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم ہو گیا ہے کہ اتحادی ممالک اپنے سائبر دفاع کو مضبوط کریں۔

یاد رہے کہ برطانوی وزیرِ دفاع کی یونیورسٹی آف سینٹ ایڈروز میں یہ تقریر ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تھوڑی ہی دیر میں وزیراعظم تھریسا مے مالٹا میں ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس میں نیٹو کے یورپی ممبران کو اپنے دفاعی اخراجات میں اضافے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنے والی ہیں۔

ادھر برطانوی اراکینِ پارلیمان نے ایک رپورٹ میں تنبیہ کی ہے کہ ہنرمند افراد کی قلت اور ذاتی ڈیٹا بریچز کا ‘ہنگامی’ انداز میں ردِعمل ظاہر کرنے کی وجہ سے برطانوی حکومت کی اپنی معیشت اور اپنے افراسٹرکچر کی حفاظت کرنے کی صلاحیت میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

برطانوی وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ نیٹو کو روس کی جانب پھیلائی جانے والے جھوٹوں کا بہتر انداز میں مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

’نیٹو کو سائبر سپیس میں اپنا دفاع اتنے ہی موثر انداز میں کرنا چاہیے جتنا وہ فضا، زمین، اور سمندروں پر کرتا ہے تاکہ دشمن کو پتا ہو کے اگر وہ سائبر حملے کرے گا تو اسے اس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ روس کی جانب سے کیے گئے ممکنہ سائبر حملوں میں فرانس میں نشریاتی ادارہ ٹی وی 5 منوڈے کا اپریل 2015 میں نشریات بند کرنا، اور جرمنی میں ایوانِ زیریں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

ان کے علاوہ اکتوبر 2016 میں بلگیریا میں ایک سائبر حملے کو ملک کے صدر نے جنوب مشرقی یورپ کا ’بھاری اور شدید ترین‘ حملہ قرار دیا تھا۔

اس کے علاوہ سر مائیکل نے روس کی جانب سے ممکنہ طور پر دونوں مرکزی امریکی سیاسی جماعتوں کی ہیکنگ کا ذکر بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں

افغان صدر پر چیف ایگزیکٹیو کا الزام

افغان صدر پر چیف ایگزیکٹیو کا الزام

افغانستان کے چیف ایگزیکٹیوعبداللہ عبداللہ نے صدر اشرف غنی پر انتخابی مہم کے دوران سرکاری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے