ایڈووکیٹ کو رہا کرنے کو تیار ہیں اگر ان کے وکیل ان کا پاسپورٹ جمع کرا دیتے ہیں

ایڈووکیٹ کو رہا کرنے کو تیار ہیں اگر ان کے وکیل ان کا پاسپورٹ جمع کرا دیتے ہیں

اسلام آباد: سپریم کورٹ دوران سماعت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم بیمار ہیں اور انہیں بار بار ہسپتال لے جانا پڑتا ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہم ایڈووکیٹ کو رہا کرنے کو تیار ہیں اگر ان کے وکیل ان کا پاسپورٹ جمع کرا دیتے ہیں اور لیپ ٹاپ کا پاسورڈ بتا دیتے ہیں

اٹارنی جنرل نے کہا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم اس بات پر بھی راضی ہوں کہ وہ راولپنڈی و اسلام آباد سے باہر نہیں جائیں گے جبکہ تحقیقات میں بھی تعاون کریں گے۔
اس پر انعام الرحیم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل ایک ماہ 18 دن سے حراست میں ہیں لیکن ساتھ ہی ان کی رہائی کیلئے شرائط کو ماننے پر رضا مندی کا اظہار کیا۔
ریمارکس دیے کہ کرنل انعام الرحیم کی رہائی کے خلاف دائر کی گئی حکومتی اپیل کو میرٹ پر سنا جائے گا، جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے لاپتہ افراد کی بازیابی اور فوج اور مسلح افواج کے انتظامی احکامات کے خلاف متعدد درخواستیں دائر کر رکھی تھیں۔
اس کے ساتھ وہ جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی حملے اور نیوی کے افسران سمیت دیگر افراد کی سزا کے حوالے سے ہونے والے ہائی پروفائل کورٹ مارشل کے خلاف دائر درخواست کے بھی وکیل تھے۔
وکیل کے مبینہ اغوا کے درج مقدمے کے مطابق ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو نامعلوم افراد نے عسکری 14 میں ان کی رہائش گاہ سے حراست میں لیا تھا جو گیریژن شہر میں خاصی محفوظ آبادی سمجھتی جاتی ہے۔
ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ جس وقت ایڈووکیٹ انعام الرحیم سو رہے تھے نامعلوم افراد ان کی رہائش گاہ میں زبردستی داخل ہوئے اور اہلِ خانہ کو دھمکیاں دیتے ہوئے انہیں جبراً اغوا کیا۔
جس کے بعد ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی حراست کے خلاف ان کے اہل خانہ نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ میں درخواست دائر کی تھی۔
20 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے وزارت دفاع اور داخلہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی موجودگی کے حوالے سے بیان حلفی جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔
وزارت داخلہ نے ان کی موجودگی سے انکار کیا تھا جبکہ وزارت دفاع کے ایک نمائندے نے لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس مرزا وقاص رؤف کو بتایا تھا کہ ایڈووکیٹ انعام الرحیم کو پاکستان آرمی ایکٹ (پی اے اے) کے تحت آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا تھا۔
بعدازاں 9 جنوری کو لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے ایڈووکیٹ کرنل (ر) انعام الرحیم کی حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
وزارت دفاع نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف ڈپٹی اٹارنی جنرل راجا عابد کے ذریعے ایک انٹرا کورٹ اپیل دائر کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا تھا۔
جس پر وفاقی حکومت نے 11 جنوری کو سابق فوجی افسر ایڈووکیٹ انعام الرحیم کی رہائی کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا تھا۔
اسی سماعت کے دوران عدالت کو اٹارنی جنرل نے بتایا تھا کہ کرنل (ر) انعام الرحیم کے پاس جوہری ہتھیاروں، انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور کچھ لوگوں کے حوالے سے معلومات تھیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا تھا کہ آپ کا کہنے کا مطلب ہے کہ ان کے پاس معلومات ہیں جو انہوں نے دشمن سے شئیر کیں؟، آپ کے کہنے کا مطلب ہے کہ کرنل انعام الرحیم ایک جاسوس ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جی کرنل(ر) انعام الرحیم ایک جاسوس ہیں،

یہ بھی پڑھیں

مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی تشہیر کسی صورت نہیں چاہتا

مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی تشہیر کسی صورت نہیں چاہتا

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے