ٹرمپ کی آسٹریلوی وزیرِ اعظم کے ساتھ ’بدترین‘ فون کال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور آسٹریلوی وزیرِ اعظم میلکم ٹرن بال کے درمیان ایک فون کال میں ٹرمپ نے پناہ گزینوں کی آبادکاری کے معاہدے پر سوال اٹھایا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فون کال کو ان کی عالمی رہنماؤں سے ہونے والی ‘اب تک کی بدترین’ بات چیت قرار دیا ہے اور انہوں نے کال وقت سے پہلے ختم کر دی۔

ٹرمپ نے بعد میں ایک ٹویٹ کے ذریعے کہا کہ وہ ‘اس بےوقوفانہ معاہدے’ کا جائزہ لیں گے۔

اس معاہدے کے تحت امریکہ آسٹریلیا سے پناہ کے 1250 درخواست گزاروں کو امریکہ میں آباد کرے گا۔

آسٹریلیا نے متنازع طور پر ان پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، اور انہیں ناؤرو اور پاپوا نیو گنی میں مختلف کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ ان کی اکثریت کا تعلق ایران، عراق اور افغانستان سے ہے۔

وزیرِ اعظم ٹرن بال نے فون کر کے صدر ٹرمپ سے وضاحت طلب کی تھی کہ ان کے گذشتہ ہفتے کے انتظامی حکم نامے کے بعد اس معاہدے کا مستقبل کیا ہو گا۔ اس حکم نامے کے ذریعے سات اسلامی ملکوں سے امریکہ آنے والوں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

ٹرمپ اور ٹرن بال کے درمیان فون کال ہفتے کے روز ہوئی تھی۔ واشنگٹن پوسٹ نے، سینیئر امریکی حکام کے، جنہیں اس کال کے بارے میں بریف کیا گیا تھا، حوالے سے کہا کہ یہ کال ایک گھنٹہ جاری رہنا تھی لیکن ٹرمپ نے اسے 25 منٹ کے بعد ہی کاٹ دیا۔

ٹرن بال امریکی صدر سے یقین دہانی چاہتے تھے کہ اس معاہدے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ ان پناہ گزینوں کو قبول کرنا ایسا ہی ہو گا جیسے اگلے ‘بوسٹن بمباروں کو قبول کرنا۔’

اس سے پہلے اس کال کے بارے میں سرکاری طور پر یہ بتایا گیا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے ‘امریکہ اور آسٹریلیا کے تعلقات کی مضبوطی اور گہرائی پر بات کی۔’ پیر کے دن ٹرن بال نے تصدیق کی تھی کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے بات کی ہے اور معاہدے کی پاسداری پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔

صدارتی ترجمان شان سپائسر نے بھی کہا تھا کہ صدر ٹرمپ معاہدے کا پاس رکھیں گے۔ تاہم بدھ کو ٹرمپ نے ٹویٹ کر کے اس بارے میں شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔

وزیرِ اعظم ٹرن بال نے بعد میں کہا کہ انہیں مایوسی ہوئی ہے کہ اس فون کال کی تفصیلات عام کر دی گئی ہیں، جو ان کے مطابق ‘بہت بےتکلفانہ اور دو ٹوک’ تھی۔

انہوں نے سڈنی کے ایک ریڈیو سٹیشن کو بتایا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ ٹرمپ نے کال کاٹ دی تھی۔

آسٹریلیا نے نومبر 2016 میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے جزائر ناؤرو اور مانوس میں موجود پناہ گزینوں کو امریکہ میں آباد کرنے کے بارے میں معاہدہ کیا ہے۔

ٹرن بال کے مطابق اس معاہدے کی نگرانی اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین یو این ایچ سی آر نے کرنا تھی جس کے تحت سب سے ضرورت مند پناہ گزینوں کو ترجیح دی جائے گی۔

پناہ گزینوں کی تعداد کے بارے میں نہیں بتایا گیا تھا لیکن آسٹریلیا کے امیگریشن کے ادارے کے سیکریٹری مائیک پیزولو نے بعد میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کو بتایا تھا کہ یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ کتنے لوگوں کو لینا چاہتا ہے۔

ان دو جزائر میں 1250 پناہ گزین موجود ہیں۔

آسٹریلیا کشتیوں کے ذریعے آنے والے پناہ گزین قبول نہیں کرتا۔ اس نے کمبوڈیا اور پاپوا نیو گنی سے بھی اسی قسم کے معاہدے کر رکھے ہیں۔

اس ضمن میں آسٹریلیا کو سخت بین الاقوامی تنقید کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ان کیمپوں میں حالات بہت خراب ہیں اور آسٹریلیا کی اس سخت پالیسی کی سزا پناہ گزینوں کو مل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کیون مک امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ تھے

کیون مک امریکی صدر ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے چوتھے سربراہ تھے

واشنگٹن: امریکا کے قائم مقام قومی سلامتی کے سربراہ کیون مک الینن نے اپنی تعیناتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے