سینیٹ کے موجودہ سیشن کو فروری کے پورے مہینے جاری رکھنے پر اتفاق

سینیٹ کے موجودہ سیشن کو فروری کے پورے مہینے جاری رکھنے پر اتفاق

اسلام آباد:غیر معمولی صورتحال کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن دونوں کا سیشن کو تقریباً 2 ماہ جاری رکھنے پر صرف اس وجہ سے اتفاق کرنا کہ آئینی شرط کو پورا کی جاسکے نہ صرف سینیٹ کے تقدس کو مجروح کرنے کے مترادف ہے بلکہ اراکینِ پارلیمان کی بدنامی کا بھی سبب بنے گا

آئین کے آرٹیکل 54(2) کے تحت ہر سال سینیٹ کے اجلاس 110 دنوں کی مدت سے کم نہیں ہونے چاہیے۔
سینیٹ کے پارلیمانی سال کا آغاز گزشتہ برس 12 مارچ سے ہوا تھا اور 17 جنوری تک ایوانِ بالا کہ صرف 70 روز اجلاس ہوسکے ہیں۔
اگر اس میں 3 مشترکہ اجلاسوں کو بھی شمار کرلیا جائے تو سینیٹ اجلاس اب تک 73 روز ہوئے ہیں اس کا مطلب آئینی شرط کے مطابق 11 مارچ تک مزید 37 روز اجلاس ہونا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ حقیقت میں گزشتہ 10 ماہ کے دوران سینیٹ کے اجلاس صرف 48 روز ہوئے ہیں کیوں کہ قواعد کے مطابق 2 ورکنگ ڈیز کے درمیان آنے والی 2 تعطیلات کا وقفہ بھی اجلاس میں شمار کرلیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی تشہیر کسی صورت نہیں چاہتا

مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی تشہیر کسی صورت نہیں چاہتا

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے