جعلی ڈومیسائل کے اجرا کیخلاف خواجہ اظہار کی درخواست

جعلی ڈومیسائل کے اجرا کیخلاف خواجہ اظہار کی درخواست

کراچی: جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف علی سید پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو جعلی ڈومیسائل کے اجرا کیخلاف خواجہ اظہار کی درخواست کی سماعت ہوئی

خواجہ اظہارنے بتایا کہ تمام صوبائی محکموں میں جعلی ڈومیسائل کی بنیاد پر نوکریاں دی گئیں، ڈومیسائل کے اجرا میں مقرر کردہ اصول اور قوانین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے ، ایک ہی شخص مختلف اضلاع کے ڈومسائل بیک وقت حاصل کرلیتا ہے ،شہری سندھ پر جعلی ڈومیسائل کے ذریعے ڈکیتی پڑتی ہے، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے موقف دیا کہ کوئی 3 سال سے دوسری جگہ مقیم ہے تو وہ ڈومیسائل کا حق دار ہے، عدالت نے سماعت 11 فروری کیلیے ملتوی کردی۔
خواجہ اظہار نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل پر حکومت سندھ کیخلاف آج دلائل دیے ہیں، دو سندھ ہیں ایک دیہی اور ایک شہری، سندھ میں جعلی ڈومیسائل بن رہے ہیں، جعلی ڈومیسائل کی وجہ سے کراچی سکھر حیدرآباد کے شہریوں کی ملازمتوں اوردیگر جگہوں پر حق تلفی ہورہی ہے۔
ایم کیو ایم میں کوئی اختلافات موجود نہیں، مصطفیٰ کمال اپنی سیاست پرغور کریں اس میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوں گے،خالد مقبول صدیقی ہمارے کنوینئر ہیں اور ہم انکی رہنمائی میں کام کر رہے ہیں، وزارتوں میں سے ایک بھی وزارت ہمیں نہیں چاہیے، ہم سندھ کا حصہ اور شیئر ہولڈر ہیں۔
خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ اے ڈی خواجہ ، کلیم امام سب کے ساتھ زیادتی کی گِئی، حکومت سندھ کبھی بھی محکمہ پولیس کو مضبوط بننے نہیں دے گی جو کرپٹ پولیس اہلکاروں کیخلاف کارروائی کرتا ہے ،حکومت سندھ اس کی راہ میں کانٹے بچھا دیتی ہے، خواجہ اظہار نے ایک بار پھر سندھ حکومت سے آدھا تمہارا آدھا ہمارا کا مطالبہ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں

اسپتال بند نہیں کرسکتے ہم نے ہمت نہیں ہاری

اسپتال بند نہیں کرسکتے ہم نے ہمت نہیں ہاری

کراچی: وسیم اختر کا کہنا تھا کہ مچھلی گھر کو دوبارہ صحیح حالت میں لایا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے