کیا ریاست کو کتابوں پر پابندی لگانی چاہیے

کیا ریاست کو کتابوں پر پابندی لگانی چاہیے

پنجاب: ان میں امریکی مصنفہ لیزلی ہیزلٹن کی دو کتابیں ’دی فرسٹ مسلم‘ اور ’آفٹر دی پرافٹ‘ کے علاوہ پاکستانی مصنف مظہرالحق کی کتاب ’اسلام کی ایک مختصر تاریخ‘ شامل ہے

ان کتب میں اسلام کے خلاف تضحیک آمیز مواد ہے اور ان میں ادب کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔
جبکہ سماجی کارکنان سمجھتے ہیں کہ ان کتابوں پر پابندی عائد کرنے کی سفارشات سراسر بلاجواز ہیں اور ممکن ہے کہ اب لوگ یہ کتابیں زیادہ پڑھیں گے۔
جن کتابوں پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے وہ کوئی نئی کتابیں نہیں۔
مظہرالحق کی کتاب ’اسلام کی ایک مختصر تاریخ‘ پہلی مرتبہ 70 کی دہائی میں شائع ہوئی اور پاکستان میں سول سروس یعنی سی ایس ایس کے امتحانات میں سلیبس کے طور پر بھی تجویز کی جاتی رہی ہے۔ دوسری جانب آفٹر دی پرافٹ 2009 جبکہ دی فرسٹ مسلم 2013 میں شائع ہوئیں تھیں۔
صوبائی وزیرِ قانون محمد بشارت راجہ کی سربراہی میں حال ہی میں ان کتابوں سمیت ایک اخبار روزنامہ الفضل کی اشاعت اور تقسیم پر پابندی اور چند سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔
پنجاب اسمبلی کی طرف سے جاری ایک بیان میں صوبائی وزیرِ قانون بشارت راجہ کے جانب سے کہا گیا ہے کہ ’بہت سی ملکی اور غیر ملکی کتب مارکیٹ میں موجود ہیں جن میں پیغمبرِ اسلام، انبیائے کرام، صحابہ اور اہلِ بیت کے خلاف تضحیک آمیز مواد موجود ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن محمد الیاس چنیوٹی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیزلی ہیزلٹن نے اپنی کتاب ’دی فرسٹ مسلم‘ میں ’شبِ معراج کے حوالے سے جو واقعہ بیان کیا وہ حقیقت پر مبنی نہیں۔‘
الیاس چنیوٹی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ’اسی طرز کی باتیں مصنفہ نے اپنی دوسری کتاب میں بھی کی ہیں۔‘
مظہر الحق کی کتاب ’اسلام کی ایک مختصر تاریخ‘ کے بارے میں بھی ان کا کہنا تھا کہ ’اس کتاب میں ادب کو ملحوظِ خاطر نہیں رکھا گیا۔‘
روزنامہ الفضل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پنجاب اسمبلی کی کمیٹی کے ممبر محمد الیاس چنیوٹی نے بتایا کہ یہ احمدی برادری سے تعلق رکھتا ہے اور پابندی کے باوجود اس کی اشاعت جاری ہے۔
‘بظاہر تو ربوہ میں موجود ان کی پرنٹنگ پریس پر پابندی ہے لیکن اس کے باوجود یہ اخبار اب بھی شائع ہو رہا ہے۔ اس لیے ہم نے سفارش کی ہے کہ اس کو مکمل طور پر روکا جائے۔
صوبائی وزیرِ قانون محمد بشارت راجہ کی زیرِ صدارت سپیشل کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ ان تینوں کتب اور روزنامہ الفضل نامی ایک جریدے پر پابندی لگائی جائے گی۔
صوبائی وزیرِ راجہ بشارت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’درآمد شدہ کتب پر پابندی میں وفاقی حکومت کی مداخلت ضروری تھی اس لیے یہ معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا گیا۔ اب یہ معاملہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں ہے۔‘
اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر جن 127 آئی ڈیز پر ’گستاخانہ‘ مواد موجود ہے ان کے خلاف پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کو کارروائی کرنے کا کہا جائے گا۔
اگر اسمبلی میں ایک نقطہ سامنے آیا ہے تو اس میں کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔
‘اگر ان کتابوں میں ایسا کوئی مواد ہے جو کہ توہین کے زمرے میں آتا ہے تو اس کے خلاف ایکشن ضرور ہونا چاہیے۔ یہ ایکشن کیا ہو گا، اسں کا تعین اسمبلی کر سکتی ہے۔ اس میں دیکھنا ہو گا کہ خلاف ورزی کس نوعیت کی ہے اور اس کے حوالے سے قانون کیا ہے۔’
ڈاکٹر کوثر فردوس کا کہنا تھا کہ ‘اگر کسی چیز سے متفق نہ ہوں تو اس کا جواب دیا جا سکتا ہے لیکن اگر کسی چیز سے دل آزاری ہو رہی ہو تو اس کو ہٹا دینا بہتر ہے۔ متفق نہ ہونے اور دل آزاری میں فرق ہوتا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان یا ایچ آر سی پی کے سیکریٹری جنرل حارث خلیق کا کہنا تھا یہ کتابیں ان کی نظر سے گزر چکی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پنجاب اسمبلی کی ’کمیٹی کی سفارشات سراسر بلاجواز ہیں۔‘
ان کے مطابق ’اگر کوئی ایسا مواد ہے جس سے ہم متفق نہیں تو اس کو عالمانہ طور پر زیرِ اعتراض لانا چاہیے۔ ان تمام کتابوں میں مستند ذرائع کے حوالے موجود ہیں۔‘
’یہ کتابیں سالوں سے پاکستان میں حلقۂ اشاعت میں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ جو کتابوں پر پابندی کی حمایت کرتے ہیں، انھوں نے یہ کتابیں نہیں پڑھیں۔‘
حارث خلیق کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ ایک سفارش ہے اس لیے اس پر عملدرآمد تاحال لازمی نہیں ہے تاہم ’یہ معاشرے میں پائی جانے والی اس عدم برداشت کی عکاسی کرتا ہے جس کی نمائندگی عوامی نمائندے کرتے ہیں۔ یہ امر خطرناک ہے۔‘
حارث خلیق کا کہنا تھا کہ ’ریاست کو کتب پر پابندیاں نہیں لگانی چاہییں۔ یہ حقِ آزادی اظہارِ رائے کی خلاف ورزی ہے۔‘
تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی نے بھی بات کرتے ہوئے حارث خلیق کے موقف سے اتفاق کیا۔
ماضی سے اس کی مثال دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تقسیم سے قبل ایک انگریز مصنف نے پیغمبرِ اسلام کی زندگی پر ایک کتاب شائع کی تھی ’تو سرسید احمد خان نے پھر اس کا جواب خطباتِ احمدیہ کے نام سے دیا تھا۔‘
‘سنسرشپ کوئی علاج نہیں ہے۔ سینسرشپ یا پابندی سے ہو سکتا ہے وقتی طور پر وہ کتاب لوگوں تک نہ پہنچے مگر تاریخ میں یہ ہے کہ جب بھی کتابیں سینسر کی گئیں تو وہ زیادہ پڑھی گئیں ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ روشن خیالی کے زمانے کے فرانس سے ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جبکہ سینسر شدہ کتاب کی مانگ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ ’پاکستان میں جب کتابیں سینسر کی جاتی ہیں تو کتاب فروش انھیں خفیہ طریقے سے بیچتے ہیں۔‘
مظہر الحق کی کتاب جو 70 کی دہائی میں شائع ہوئی تھی اس وقت اس کی اشاعت پر پابندی کی سفارش کے حوالے سے ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا تھا کہ ’اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ 70 کی دہائی میں ہمارے معاشرے میں رواداری یا برداشت زیادہ تھی۔۔۔ جو اب کم ہوتی جا رہی ہے۔‘
ڈاکٹر مبارک علی کا کہنا تھا کہ تاریخ سے ظاہر ہے کہ سینسرشپ کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہوتا۔
رومن کیتھولک دور کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کیتھولک مخالف کتابیں ضبط کرنے اور تلف کرنے کے احکامات ہر ہفتے پوپ کی طرف سے جاری کیے جاتے تھے۔
’اس (پابندی) کے باوجود لٹریچر چھپتا بھی رہا اور لوگ پڑھتے بھی رہے۔ صرف چند افراد کے پاس یہ اختیار نہیں ہونا چاہیے کہ وہ اس کا فیصلہ کریں کیونکہ کہ کسی کی ذاتی رائے بھی ہو سکتی ہے۔
ایچ آر سی پی کے چیئرپرسن ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ ’حکمرانوں کا خیال ہے کہ اگر کتابوں پر پابندیاں لگا دی جائیں تو اس سے ان کے لیے آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں، مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔‘
ڈاکٹر مہدی حسن کا کہنا تھا کہ جن کتابوں پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے اگر ان کے مصنفین اس کے خلاف عدالتِ عظمٰی سے رجوع کریں تو ’مجھے یقین ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں آئے گا۔‘

یہ بھی پڑھیں

سلمان شہباز کے ملازمین کے بینک اکاؤنٹ میں بھی 9.5 ارب روپے کا انکشاف

سلمان شہباز کے ملازمین کے بینک اکاؤنٹ میں بھی 9.5 ارب روپے کا انکشاف

لاہور: ملازمین رمضان شوگر مل اور العریبیہ شوگر مل میں کام کرتے ہیں ایف آئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے