تفصیلات جمع نہ کروانے والوں کی رکنیت الیکشن کمیشن 15 اکتوبر تک معطل کرسکتا تھا

تفصیلات جمع نہ کروانے والوں کی رکنیت الیکشن کمیشن 15 اکتوبر تک معطل کرسکتا تھا

اسلام آباد: قانون کے تحت تمام اراکین پارلیمان اپنے، اپنے شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثوں کی تفصیلات ہر سال الیکشن کمیشن میں جمع کروانے کے پابند ہیں

الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم سے قبل اثاثوں کی تفصیلات جمع کروانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر تھی اور مذکورہ تفصیلات جمع نہ کروانے والوں کی رکنیت الیکشن کمیشن 15 اکتوبر تک معطل کرسکتا تھا۔
انتخابی اصلاحات کے نام پر اس قانون میں ترمیم کی گئی اور آخری تاریخ کو توسیع دے کر 31 دسمبر کردیا گیا لیکن 15 دن کی رعایتی مدت کا مطلب یہ ہے کہ 16 جنوری سے قبل ان کی رکنیت معطل نہیں کی جائے گی۔
سینیٹ اور اسمبلیوں کا ہر رکن اپنے، اپنے شریک حیات اور 30 جون تک اپنے زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات ہر سال 31 دسمبر سے قبل الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے گا۔
الیکشن کمیشن ہر سال جنوری کے پہلے دن پریس ریلیز کے ذریعے ان اراکین کے نام جاری کرے گا جنہوں نے مقررہ مدت تک اثاثوں کی تفصیلات جمع نہیں کروائی ہوگی۔
اگر کوئی رکن اسمبلی اور سینیٹ 15 جنوری تک مذکورہ تفصیلات جمع نہیں کروائے گا تو الیکشن کمیشن 16 جنوری کو ان کی رکنیت معطل کرنے کا حکم دے گا۔
اگر کسی رکن کی جانب سے جمع کروائی گئی اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جھوٹی ثابت ہوئیں تو 120 دنوں میں اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
جن 495 قانون سازوں نے الیکشن کمیشن کے پاس 31 دسمبر تک اپنے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جمع نہیں کروائیں ان میں وفاقی اور صوبائی وزرا اور آئینی عہدوں پر فائز دیگر افراد سمیت سیاسی رہنما بھی شامل ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق جو افراد اس قانونی ذمہ داری کو ادا کرنے میں ناکام رہے ان میں قومی اسمبلی کے ایک سو 66، سینیٹ کے 32، پنجاب اسمبلی کے ایک سو 90، سندھ اسمبلی کے 82، خیبرپختونخوا اسمبلی کے 85 جبکہ بلوچستان اسمبلی کے 40 اراکین شامل ہیں۔
اس کوتاہی کے مرتکب افراد میں سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

دوبارہ اسلام آباد مارچ کا اعلان کر سکتے ہیں

دوبارہ اسلام آباد مارچ کا اعلان کر سکتے ہیں

ملاکنڈ: جعلی حکمرانوں کی حکومت کا خاتمہ ہو رہا ہے، سارے جیلوں میں چلے جائیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے