شہریت قانون پر احتجاجی مظاہرے کرنے والوں کو گولی مارنے اور جیل میں ڈالنے کی دھمکی

شہریت قانون پر احتجاجی مظاہرے کرنے والوں کو گولی مارنے اور جیل میں ڈالنے کی دھمکی

نئی دہلی: بھارتی پارلیمنٹ کے رکن اور بی جے پی مغربی بنگال کے صدر دلیپ گھوش نے یہ بات پارٹی اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے کہی

یونین منسٹر بابل سوپریو نے ان کے اس بیان سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اسے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا
بھارتی حکومت نے ایک متنازع قانون منظور کیا تھا جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان سے آنے والے وہ افراد جو مسلمان نہیں ان کو باآسانی شہریت دی جاسکے گی، قانون کے منظور ہونے کے بعد بھارت میں بڑے پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔
یہ قانون شہریوں کو قانونی شہری کے طور پر رجسٹر کرنے کا پیش خیمہ ہے جس سے بھارت کے 20 کروڑ مسلمانوں کو غیر ریاستی ہونے کا اندیشہ ہے کیوں کہ بہت سے غریب شہریوں کے پاس اپنی قومیت ثابت کرنے کی دستاویزات ہی نہیں۔
دلیپ گھوش نے مغربی بنگال میں اپوزیشن جماعت آل انڈیا ترینامول کانگریس پارٹی کے وزیر اعلیٰ ممتا بنیرجی پر تنقید کرتے ہوئے بی جے پی کے زیر اثر بھارت کی دیگر ریاستوں کی حکومت میں اس احتجاج سے نمٹنے کے اقدامات اور ان کی حکومت کے اقدامات کا موازنہ کیا۔
ممتا بنیرجی ان متعدد وزرا اعلیٰ میں سے ہیں جنہوں نے متنازع شہریت قانون پر اپنی ریاست میں عمل در آمد کرانے سے انکار کردیا ہے اور سڑکوں پر اس کے خلاف ہونے والے احتجاج کی قیادت بھی کی ہے۔
دلیپ گھوش کا کہنا تھا کہ ‘آسام، اتر پردیش، کرناٹکا میں دیکھیں، ہماری حکومت نے ان پر ایسے گولیاں چلائی ہیں جیسے کتوں کو مارا جاتا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘آپ یہاں آئیں، ہمارا کھانا کھائیں، یہاں رہیں اور ہماری ہی زمین کو نقصان پہنچائیں گے؟، ہم آپ کو ڈنڈوں سے ماریں گے، گولیاں ماریں گے اور جیل میں ڈال دیں گے’۔

یہ بھی پڑھیں

امریکی حکام نے کہا کہ ٹرمپ کیلیے مذہبی آزادی کا معاملہ بہت اہمیت رکھتا ہے

امریکی حکام نے کہا کہ ٹرمپ کیلیے مذہبی آزادی کا معاملہ بہت اہمیت رکھتا ہے

واشنگٹن: امریکی حکام نے ٹرمپ کی ممکنہ بات چیت کی تصدیق کردتے ہوئے کہ مودی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے