میانمار میں معروف مسلم قانون دان قتل

صدارتی ترجمان زاہٹے نے بتایا کہ معروف وکیل ’کونی‘ انڈونیشیا کے سرکاری دورے کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔

ترجمان کے مطابق مقتول وکیل پر ایئرپورٹ کے باہر اُس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے تھے، فائرنگ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

رپورٹس کے مطابق معروف وکیل کے قتل کے پیچھے چھپے مقاصد کا فوری طور پر علم نہیں ہو سکا، تاہم میانمار کی مسلم کمیونٹی پہلے ہی سخت مسائل کا شکار ہے۔

میانمار کا سرحدی علاقہ کئی دہائیوں سے مسلمان اقلیتوں کی نسل کشی کی بناء پر شورش زدہ بنا ہوا ہے، مگر ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ یہاں کسی معروف سیاسی شخصیت کو قتل کیا جائے، دوسری جانب ملک کے کمرشل علاقوں میں زور و شور سے کام جاری ہے اور وہ محفوظ ہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں بنیاد پرست بدھ مت کے پیروکاروں کی جانب سے مسلم مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

حکمران جماعت کے مسلمان مشیر ’کونی‘ مذہبی رواداری اور معاشی ترقی کے مقدمات لڑنے کے حوالے سے مشہور تھے۔

خیال رہے کہ میانمار میں کئی دہائیوں تک فوجی ڈکٹیٹرشپ رہنے کے بعد 2015 میں آنگ سانگ سوچی کی جماعت این ایل ڈی نے بھاری اکثریت سے انتخابات جیتنے کے بعد حکومت بنائی، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی میں سخت گیر بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہے اور اعلیٰ اور سینیئر رہنماؤں کی موجودگی کے باوجود مسلمانوں کی نمائندگی نہیں۔

میانمار کی مغربی ریاست راکھائن میں مسلمانوں پر فوج کی جانب سے کیے جانے والے کریک ڈاؤن کو روکنے کی ناکامی پر آنگ سانگ سوچی کوعالمی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔

 

یہ بھی پڑھیں

بھارت میں جنسی زیادتی میں ملوث رکن اسمبلی نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا

اتر پردیش:  جنسی زیادتی میں ملوث سماج پارٹی کے رکن اسمبلی اٹل رائے نے خود …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے