چمن میں کلی ٹاکی میں خسرے سے متاثرہ 5 بچے دوران علاج جاں بحق ہو گئے

چمن میں کلی ٹاکی میں خسرے سے متاثرہ 5 بچے دوران علاج جاں بحق ہو گئے

چمن: صوبہ بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ کے علاقے چمن میں ایک ہی گاؤں کے پانچ بچے خسرے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے ہیں، ضلعی اسپتال کی جانب سے گاؤں میں طبی امداد بھیج دی گئی

ڈی ایچ کیو اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر عصمت اچکزئی کا کہنا ہے علاقے میں سیکڑوں بچے خسرے سے متاثر ہیں، اطلاع ملتے ہی ایک ڈاکٹر اور پندرہ ویکسنیٹرز، ایمبولنس اور ادویات متاثرہ گاؤں روانہ کر دی ہیں۔ کلی ٹاکی میں جاں بحق بچوں کی عمریں 3 سے 7 سال کے درمیان ہیں، تین لڑکے اور دو لڑکیاں شامل ہیں۔
افغانستان کی سرحد پر واقع علاقے چمن میں خسرے نے وبائی صورت اختیار کر لی ہے، یہاں ہر سال خسرے کی وبا پھیلتی ہے تاہم اس سے بچاؤ کے لیے تا حال کوئی تسلی بخش اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

وزیر اعلیٰ ہاؤس تک عام عوام کی رسائی تو دور کی بات ہے وہاں اراکین اسمبلی تک کے لیے جانا مشکل ہے

وزیر اعلیٰ ہاؤس تک عام عوام کی رسائی تو دور کی بات ہے وہاں اراکین اسمبلی تک کے لیے جانا مشکل ہے

بلوچستان: جتنی بھی حکومتیں آئی ہیں ان میں سے یہ بدترین حکومت ہے اس لیے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے