خیبر پختونخوا کے وکلاء غیر معینہ مدت تک ہڑتال پر کیوں؟

خیبر پختونخوا کے وکلاء غیر معینہ مدت تک ہڑتال پر کیوں؟

پشاور : پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ صوبائی حکومت کیجانب سے کی جانیوالی ترامیم این جی اوز کی ترامیم ہے جسکا مقصد انصاف کا خاتمہ ہے، یہ ترامیم وکلاء کے خاتمے کی ترامیم ہیں اور اسکا آغاز اس صوبے سے کیا جا رہا ہے

وکالت کے پیشے کو ختم کرنیکی کوشش کی جارہی ہے، تاکہ صرف ایک ادارہ کام کر سکے، وکلاء نے عوام اور قانون کی بالادستی کیلئے ہمیشہ جنگ لڑی ہے اور اب بھی لڑیں گے۔
انسداد منشیات کے قوانین میں ترامیم کے خلاف گذشتہ 3 روز سے عدالتوں کا غیر معینہ مدت تک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت کی جانب سے کی جانے والی ترامیم واپس نہیں لی جاتی تب تک احتجاج جاری رہے گا۔ پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم این جی اوز کی ترامیم ہیں جو انصاف کے قتل عام کا منصوبہ ہے، ملک بھر کے وکلاء کے پی کے وکلاء کا ساتھ دیں گے، عدلیہ کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کس کے ساتھ کھڑی ہے۔ پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر لطیف آفریدی نے بھی عدالتوں سے بائیکاٹ کی حمایت کی اور کہا کہ احتجاج کے دوران جو وکیل عدالت میں پیش ہوا اس کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔
بدھ کے روز کے پی بار کونسل کی کال پر پشاور سمیت صوبے بھر میں وکلاء نے ضابطہ دیوانی اور انسداد منشیات کے قوانین میں ترامیم کے خلاف عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور کوئی بھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا جس سے عدالتی امور بری طرح متاثر ہوئے۔
پشاور ہائیکورٹ میں وکلاء کنونشن منعقد کیا گیا جس میں پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد علی شاہ، کے پی بار کونسل کے وائس چیئرمین سعید خان، پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر لطیف آفریدی، پشاور بار کے صدر تیمور علی شاہ سمیت صوبے بھر سے بارز اور تحصیل کے نمائندوں اور وکلاء نے شرکت کی۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین امجد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے کی جانے والی ترامیم این جی اوز کی ترامیم ہے جس کا مقصد انصاف کا خاتمہ ہے، یہ ترامیم وکلاء کے خاتمے کی ترامیم ہیں اور اس کا آغاز اس صوبے سے کیا جا رہا ہے، وکالت کے پیشے کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، تاکہ صرف ایک ادارہ کام کر سکے، وکلاء نے عوام اور قانون کی بالادستی کیلئے ہمیشہ جنگ لڑی ہے اور اب بھی لڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان ترامیم سے عوام انصاف سے دور ہو جائیں گے، ہم آرام سے بیٹھنے والے نہیں، ملک بھر کے 157 بار اس صوبے کے وکلاء کے ساتھ کھڑے ہیں، آپ لوگ بائیکاٹ کی کال دیں تمام وکلاء ساتھ دیں گے۔
ان ترامیم کے خلاف ڈی ائی خان سے وکلاء کنونشن کا اغاز کیا جائے۔ کنونشن سے پشاور ہائیکورٹ بار کے صدر عبدالطیف آفریدی نے کہا کہ ظالم حکومت نے عوام کے جیبوں پر ڈاکہ ڈالا ہے، نئی ترامیم سے عوام پر اضافی بوجھ پڑا ہے، ہم نے پہلے تین بار ہڑتال کی کال دی، اس کے بعد ہڑتال ختم کی، ہم ہڑتال پر خوش نہیں ہوتے لیکن ہمیں مجبور کیا جارہا ہے۔ لطیف آفریدی نے کہا کہ عدالت میں ہمارے وکیل بھائی نے ان ترامیم کے خلاف کیس دائر کیا ہے، سینئر وکلاء سے پوچھے بغیر ایسی درخواستیں دائر مت کریں، وکلا جب تک متحد نہیں ہوں گے یہ مسئلے حل نہیں ہوں گے، نئی ترامیم میں شہادت کمیشن ریکارڈ کرے گا جج ریکارڈ نہیں کرے گا، یہ تو جج پر عدم اعتماد ہے۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے پشاور بار کے صدر تیمور علی شاہ نے کہا کہ حکومت نے خیبر پختونخوا کو لیبارٹری بنا رکھا ہے جو نئے قوانین نافذ کرنا چاہتی ہے تو پہلے خیبر پختونخوا میں اپلائی کرتی ہے، حکومت وکلاء کے خلاف سازش کر رہی ہے،

یہ بھی پڑھیں

سیاسی سرگرمیاں کے حامل سرکاری ملازمین کی شامت آگئی

سیاسی سرگرمیاں کے حامل سرکاری ملازمین کی شامت آگئی

پشاور: خیبر پختون خواہ حکومت نے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ملازمین کےخلاف کارروائی کافیصلہ کرلیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے