لاپتہ افراد کیس کی سماعت ، عدالت نے جواب طلب کرلیا

سندھ ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کیس کی درخواستوں پرسماعت ہوئی، درخواست گزارکا کہنا ہے کہ پولیس کی حراست میں جانے کے بعد شہری لاپتہ ہوئے ہیں ،اظہراقبال،وسیم،ساجداوردیگرکومختلف علاقوں سےحراست میں لیا گیا تھا، درخواست گزار نے عدالت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فوری بازیاب کروایا جائے۔

عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہری اظہراقبال 5سال سےلاپتہ ہے،ذمےداروں کوکوئی فکرنہیں ہے۔ اداروں کوجوحکم دیاجاتاہےاس پر عمل درآمدنہیں کیاجاتا ، عدالت نے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ کو ہدایت دی کہ شہریوں کی گمشدگی سےمتعلق تفصیلی جواب جمع کرائیں۔

یاد رہے، رواں ماہ وفاقی درالحکومت سے لاپتہ ہونے سماجی کارکن پروفیسرسلمان حیدر ہفتے کے روز اپنے گھر واپس پہنچ گئے ہیں۔

سینٹ کے چیرمین رضا ربانی نے لاپتہ افراد کے حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست کی مرضی سے لوگ غائب ہورہے ہیں اور یہ ہورہا ہے کہ خوف اتنا طاری کر دو کہ لوگ اپنے سائے سے بھی ڈریں یہی وجہ ہے کہ کسی میں ہمت نہیں کہ پوچھ سکیں اور اگر لاپتہ افراد مجرم ہیں تو ان پر مقدمہ چلنا چاہیے۔

 

یہ بھی پڑھیں

چین سے ہونے والی تجارت سمیت دیگر تجارتی معاملات سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ کے ریکارڈ کی تفصیلات طلب

چین سے ہونے والی تجارت سمیت دیگر تجارتی معاملات سے متعلق مبینہ منی لانڈرنگ کے ریکارڈ کی تفصیلات طلب

کراچی: سی آئی آئی کے کراچی میں قائم دفتر کے ڈائریکٹر عرفان جاوید نے چینی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے