شوگرانڈسٹری میں کوئی کارٹل نہیں، بحران کے ذمے دار مڈل مین ہیں

شوگرانڈسٹری میں کوئی کارٹل نہیں، بحران کے ذمے دار مڈل مین ہیں

 اسلام آباد: وفاقی کابینہ کے حالیہ اجلاس کے دوران کچھ اراکین کابینہ نے شوگرملوں کی جانب سے گنے کی خریداری بند کرنے اور اس کے نتیجے میں کسانوں کو درپیش مشکلات کا معاملہ اٹھایا

اراکین نے کہا کہ پاکستان شوگرملز ایسوسی ایشن کے بیشتر اراکین نے ملی بھگت کرکے اپنی ملیں بند کی ہیں کیوں کہ گنے کے نرخ 190 روپے فی من کی امدادی قیمت سے بڑھ کر 225 روپے من پر پہنچ گئے ہیں۔
کابینہ اراکین کا کہنا تھا کہ طاقت ور شوگر مل مالکان کے ہاتھوںکاشت کاروں کے مسلسل استحصال کی وجہ گنے کی قیمت مقرر کرنے کی پالیسی ہے۔ اس کے مقابلے میں کپاس کی کوئی امدادی قیمت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ کپاس کی کاشت کے علاقوں میں بھی گنے کی کاشت مستقل بڑھتی جارہی ہے۔
وزارت خوراک کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کاشت کاروں کے استحصال کی ذمہ دار حکومت ہے کیوں کہ طاقت ور لابیاں پالیسی فیصلوں پر اثرانداز ہوتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق شوگر اور ٹیکسٹائل مل مالکان کاشت کاروں کا استحصال کرنے والی دو طاقت ور لابیاں ہیں۔
پی ٹی آئی حکومت نے مسابقتی کمیشن کی رپورٹ کی روشنی میں چینی اور آٹے کی صنعتوں میں کارٹل بنائے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کے لیے ایکشن پلان تشکیل بھی دیا تھا۔ حکومت نے ان کے مقدمات تحقیقات کے لیے مسابقتی کمیشن میں بھیجے تھے جہاں سے فیصلہ کارٹل کے خلاف آیا تھا۔
کابینہ اجلاس کے دوران کچھ اراکین نے کرشنگ سیزن شرو ع ہوجانے کے باوجود گنے کی امدادی قیمت کا اعلان کرنے میں صوبائی حکومتوں کی ناکامی پر تحفظات کا اظہار بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی تاریخ میں معاشرتی تحفظ کاسب سے بڑا منصوبہ ہے

پاکستانی تاریخ میں معاشرتی تحفظ کاسب سے بڑا منصوبہ ہے

واشنگٹن: امریکی نشریاتی ادارے رپورٹ میں لکھا کہ پاکستان نےاپنی تاریخ میں معاشرتی تحفظ کا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے