’انگلینڈ نہ جاتا تو اچھا کرکٹر نہ بنتا

پاکستان کرکٹ ٹیم کو 1992 میں ورلڈکپ جتوانے والی ٹیم کی قیادت کرنے والے سابق کپتان عمران خان نے کہا ہے کہ اگر وہ 18 سال کی عمر میں انگلینڈ نہ جاتے اور وہاں کرکٹ نہ سیکھتے، تو وہ کبھی بھی اچھے کرکٹر نہ بن پاتے۔

کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے پشاور کے حیات آباد اسپورٹس کمپلیکس کا دورہ کیا، ان کے ساتھ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک اور معروف کرکٹر شاہد آفریدی بھی تھے۔

عمران خان نے نئے کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں کرکٹ کے گر سکھائے۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انگلینڈ نہ جاتے تو اچھے کرکٹر نہیں بنتے، انگلینڈ میں کرکٹ سیکھ کر وہ وہاں کے لوگوں سے بھی آگے نکل گئے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ انہیں شاید پاکستان میں کرکٹ کھیلنے کا موقع نہ ملتا، انہیں یہ موقع انگلینڈ میں ملا۔

عمران خان کے مطابق انگلینڈ میں نہ صرف انہیں کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا بلکہ دنیا کی اچھی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی ملا، جس وجہ سے وہ آگے بڑھے۔

ان کے مطابق پاکستان میں کھیل اور تعلیم کو اہمیت نہیں دی جاتی، کھیل بہت سی برائیوں سے روکتا اور صحت بہتر کرتا ہے، جب کہ تعلیم ذہنی مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

عمران خان نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کے ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جب کہ ملک کی60 فیصد آبادی 20 سال کی عمرکے اردگرد یا اس سے کم عمر کے لوگوں پر مشتمل ہے، جو کھیلوں سے دور ہیں۔

سابق کرکٹر کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی آبادی بمشکل 50 لاکھ ہے، مگر وہاں پاکستان سے زیادہ کھیلوں کے میدان ہیں، جب کہ پاکستان کی 20 کروڑ آبادی کے باوجود کھیلوں کے میدانوں کا فقدان ہے، ان کے مطابق آسٹریلیا کے ہر چھوٹے سے چھوٹے محلے میں بھی کھیل کا میدان ہوتا ہے۔

انہوں نے اپنا ماضی یاد کرتے ہوئے بتایا کہ 1992 میں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد جب وہ کتاب لکھ رہے تھے تو وہ پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں کے دورے پر گئے، جہاں انہیں دیکھ کر قبائلی بچوں نے پہلی بار کرکٹ کھیلی۔

عمران خان نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ قبائلی علاقوں میں کھیلوں کے میدان بنانا چاہتے ہیں، جب کہ وہ اس بات کے بھی حامی ہیں کہ ملک میں کھلاڑیوں کوبیرون ملک کے معیار کے مطابق سہولتیں دی جانی چاہیے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ تعلیم اور کھیل مقابلہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، جیسے ان کا سیاست میں نواز شریف کے ساتھ مقابلہ ہے۔

عمران خان نے ہلکے پھلکے انداز سیاسی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پرویز خٹک پاکستان کے نمبر ون وزیر اعلیٰ ہیں، ان کا پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے کوئی مقابلہ نہیں، شہباز شریف پل اور انڈر پاس بنا رہے ہیں، پرویز خٹک انسانوں کی خدمت اور اداروں کو مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

بطور سفیر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز دنیا کے ہر فورم پر اٹھاؤں گا

بطور سفیر مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آواز دنیا کے ہر فورم پر اٹھاؤں گا

اسلام آباد: اعلامیے میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے