ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری

ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری

اسلام آباد: ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مسلم لیگ (ن) کے وکیل بیرسٹر جہانگیر خان جدون کی دائر کردہ توہین کی درخواست پر سماعت کی

بیرسٹر جہانگیر جدون کا کہنا تھا کہ گزشتہ برس اکتوبر میں عدالت نے ایف آئی اے کو غیر ضروری ہراساں کرنے سے روکا تھا اس کے باوجود ایف آئی اے نے ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے
3 ماہ قبل جج ویڈیو کیس کے مرکزی کردار ناصر بٹ کے رشتہ داروں نے ایف آئی اے کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔
جس پر عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ ’ ہر تفتیشی افسر پر منصفانہ، شفاف طریقے اور کسی غیر ضروری ہراساں کیے بغیر قانون سختی سے قانون کے مطابق تحقیقات کرنا لازم ہے‘۔
بیرسٹر جہانگیز جدون کا درخواست میں کہنا تھا کہ 26 دسمبر کو وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لاہور کے ماڈل ٹاؤن میں قائم مرکزی سیکریٹریٹ میں چھاپہ مارا۔
چھاپہ مارنے والا اسٹنٹ ڈائریکٹر اعجاز شیخ خود ایف آئی اے کا ملزم ہے جس نے 2016 میں ایک مقدمے کے دوران بغیر نوٹس کے پیش ہو کر ملزمان کے حق میں جھوٹا بیان دیا تھا‘۔
بیرسٹر جہانگیر جدون کے مطابق اعجاز شیخ کو ہی اس کیس میں تفتیشی افسر لگایا گیا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے نے کہا تھا کہ کارروائی کرنے کے لیے سیاسی دباو ڈالا جارہا ہے۔
اپنی درخواست کے ساتھ مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے عدالت میں اعجاز شیخ کے خلاف ایف آئی اے کی درج کردہ ایف آئی آر کے نقل بھی پیش کی۔
جج وڈیو کیس کے تفتیشی افسر اور ایف آئی اے کے اسٹنٹ ڈائریکٹر اعجاز شیخ آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ابھی اس معاملے کو چھوڑ دیں تفتیشی کا جواب آجائے تو دیکھتے ہیں۔
اس کے ساتھ عدالت نے توہین عدالت کی درخواست پر ڈی جی ایف آئی اے واجد ضیاء سے جواب طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت سے قبل تحریری جواب جمع کروانے کی ہدایت کی۔

یہ بھی پڑھیں

مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی تشہیر کسی صورت نہیں چاہتا

مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی تشہیر کسی صورت نہیں چاہتا

اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہاکہ مقصد صرف عوام کی فلاح ہے اپنی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے