قہقے بکھیرنے والے لیجنڈ فنکار لہری کی آج 91 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے

قہقے بکھیرنے والے لیجنڈ فنکار لہری کی آج 91 ویں سالگرہ منائی جارہی ہے

کراچی: سنہ 1950 میں فلم ’انوکھی‘ سے اپنے فنی کرئیر کا آغاز کرنے والے اداکار لہری نے اپنے برجستہ، خوبصورت اور چبھتے ہوئے جملوں کے اداس چہروں پر بھی مسکراہٹ بکھیری

سفیر اللہ عرف لہری نے اپنے منفرد انداز اور طنز و مزاح کے باعث بہت جلد ترقی کی منازل طے کی۔
لہری نے کم و بیش سوا دو سو فلموں میں کام کیا، جن میں انسان بدلتا ہے، رات کے راہی، فیصلہ، جوکر، کون کسی کا، آگ، توبہ، جیسے جانتے نہیں، اور دیگر شامل ہیں جبکہ ’انجمن، پھول میرے گلشن کا، دل میرا دھڑکن تیری‘ لہری کی یادگار فلمیں ہیں۔
لہری پاکستان کے وہ پہلے کامیڈین ہیں، جنہوں نے فلمی دنیا کے سب سے بڑے ایوارڈ نگار 11 مرتبہ حاصل کیا، جو اپنے آپ میں ایک ریکارڈ ہے۔
ان کا آخری ایوارڈ بھی نگار ایوارڈ تھا، جو سن 1993 میں ان کی خدمات کے اعتراف میں دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

’ آپ یہ چاہ رہے تھے کہ میں اپنے کپڑے پھاڑ کر ڈانس شروع کردوں؟‘

’ آپ یہ چاہ رہے تھے کہ میں اپنے کپڑے پھاڑ کر ڈانس شروع کردوں؟‘

پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کی افتتاحی تقریب میں میزبانی کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے