بارہ مئی واقعے کے درخواست گزار اقبال کاظمی ’لاپتہ

کراچی ہائی کورٹ میں بارہ مئی واقعے کے درخواست گزار اقبال کاظمی مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں، جس کے خلاف ان کے اہل خانہ نے منگل کو پریس کلب کے باہر احتجاج کیا ہے۔

اقبال کاظمی کی بیگم سعدیہ کاظمی نے بتایا کہ 17 جنوری کو ان کے شوہر ہائی کورٹ سے ملیر میں جعفر طیار سوسائٹی میں واقعہ اپنے گھر کی جانب جا رہے تھے کہ نامعلوم افراد انہیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں حالانکہ ان کے شوہر کے ساتھ دو پولیس گارڈ بھی موجود تھے۔

اقبال کاظمی کے اہل خانہ نے کراچی کے کسی بھی تھانے میں ان کی گمشدگی کا مقدمہ درج نہیں کرایا تاہم ان کی بیگم کا کہنا ہے کہ انہوں نے سندھ ہائی کورٹ میں گمشدگی کے خلاف درخواست دائر کردی ہے۔

سعدیہ کاظمی کا کہنا تھا کہ ’اقبال کاظمی کوئی دہشت گرد یا مجرم نہیں، بارہ مئی 2007 کو جب انسانی خون سڑکوں پر بہہ رہا تھا تو سب سے پہلے اقبال کاظمی نے آواز اٹھائی تھی، اسی طرح عاشورہ دھماکے میں تفتیش کے لیے بھی انہوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکٹایا تھا۔ معلوم نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انہیں کیوں حراست میں رکھا ہے۔‘

سندھ ہائی کورٹ میں متعدد درخواستوں کے مدعی اقبال کاظمی نے پاکستان قومی موومنٹ کے نام سے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی تھی، جس کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ یہ 2012 میں رجسٹرڈ کی گئی تھی۔

سعدیہ کاظمی کا کہنا ہے کہ اقبال کاظمی نے پی کیو ایم کی جانب سے 21 جنوری کو ریلی کا اعلان کیا تھا، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں ایم کیو ایم لندن کی حمایت حاصل ہے لیکن اگر ایسا ہوتا تو وہ ان کے ساتھ کم از کم اس احتجاج میں تو شریک ہوتے۔

سعدیہ کاظمی نے پی کیو ایم کی دیگر قیادت سے بھی لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ریلی میں شرکت کے لیے تو تمام ہی جماعتوں کو دعوت دی گئی تھی، ان کے کردار کو مسخ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں اکثر اخباری تراشے اور اردو میں لکھی ہوئی درخواستیں ہاتھ میں لیکر چکر لگانے والے اقبال کاظمی بارہ مئی 2007 کی ہنگامہ آرائی کے خلاف درخواست دائر کرنے کے بعد میڈیا پر سامنے آئے تھے، اس درخواست میں انہوں نے ایم کیو ایم کی قیادت کو بھی فریق بنایا تھا۔

اقبال کاظمی ایم کیو ایم حقیقی کے رہنما آفاق احمد کے قریب سمجھ جاتے تھے، وقت کے ساتھ ان کے ظاہری اور معاشی حالت میں بہتری آئی، وہ کچھ عرصہ غائب رہے اور اچانک منظر عام پر آنے کے بعد 21 جنوری کو عائشہ منزل سے مزار قائد تک ریلی کا اعلان کیا تھا۔ وہ کیوں اور کیسے ایم کیو ایم لندن کے قریب ہوئے سعدیہ کاظمی نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا، ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف یہ تشویش ہے کہ ان کے شوہر دمے کے مریض ہیں۔

یاد رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے سرجانی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ رحمان ملک اور اقبال کاظمی کو ایم کیو ایم کا مالک بننے نہیں دیں گے۔ بقول ان کے اقبال کاظمی وہ شخص ہے جو ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف درخواستیں دائر کر کے انہیں تنگ کرتا رہا اور اب ایسے شخص کو ایم کیو ایم سوپنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں مردم شماری غلط ہوئی اسی وجہ سے شہر میں مسائل زیادہ ہیں

کراچی میں مردم شماری غلط ہوئی اسی وجہ سے شہر میں مسائل زیادہ ہیں

کراچی: صفائی کے 20 دن میں 48 ہزار ٹن کچرا نالوں سے صاف کیا گیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے