عدنان صدیقی کی بھارتی ویزہ ملنے کی تردید

عدنان صدیقی اور سجل علی کو بھارت کا ویزہ جاری ہوگیا ہے اور وہ بہت جلد اپنی بھارتی فلم ’مام‘ کی بقیہ شوٹنگ کے لیے بھارت روانہ ہوجائیں گے لیکن عدنان صدیقی نے ان خبروں کی تردید کردی۔

عدنان صدیقی نے کہا کہ ویزہ ملنے کی خبریں بھارتی میڈیا کی پھیلائی ہوئی ہیں۔ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں، اور انہیں تاحال بھارتی ویزہ جاری نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ فلم ’مام‘ ایک معاشرتی موضوع پر مبنی فلم ہے جس میں عدنان صدیقی بھارتی اداکارہ سری دیوی کے شوہر جبکہ سجل علی ان کی سوتیلی بیٹی کے کردار میں نظر آئیں گی۔

عدنان صدیقی کا کہنا تھا کہ پہلے تو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پابندی لگائی کس نے ہے۔ ’یہ دونوں جانب کی کسی حکومت نے نہیں لگائی بلکہ یہ بھارتی فلم پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کی لگائی ہوئی پابندی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ سب سیاست کا حصہ ہے۔ فی الحال دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہیں اور خراب حالات میں ایسے ہی فیصلے کیے جاتے ہیں۔

عدنان صدیقی کو کیا اس سے قبل بھی بالی ووڈ سے کوئی پیشکش موصول ہوئی؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انہیں بالی ووڈ سے بے شمار آفرز موصول ہوئی تھیں لیکن وہ ان کے دل کو نہ بھائیں۔

انہوں نے کہا کہ فلم ’مام‘ کی پیشکش کو قبول کرنے کی وجہ اس کا اسکرپٹ، اس میں شامل سینئر اور منجھے ہوئے بھارتی اداکار، فلم کی نئی ہدایت کارہ اور اے آر رحٰمن کی موسیقی ہے۔ ’اور خود سری دیوی کی موجودگی اور ان کے مقابل ان کے شوہر کا کردار ادا کرنا ایک بڑی وجہ تھی‘۔

پاکستان میں اپنی مصروفیات کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بے شمار پروجیکٹس کے ساتھ ساتھ وہ لاہور میں ایک ڈرامے کی شوٹنگ کا آغاز کرنے جارہے ہیں جس میں سنہ 1948 کا دور دکھایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ عدنان صدیقی سنہ 2007 میں ہالی ووڈ کی فلم ’آ مائٹی ہارٹ‘ میں بھی ایک کردار ادا کر چکے ہیں۔ فلم میں مرکزی کردار اداکارہ انجلینا جولی نے ادا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

سلمان خان بار ‘مُنا بدنام‘ کریں گے

سلمان خان اس بار ‘مُنا بدنام‘ کریں گے

دبنگ 3 میں اس بار منی نہیں منا بدنام ہوگا بھارتی میڈیا رپورٹس کےمطابق دبنگ 3 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے