سی آئی اے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش

سی آئی اے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش

امریکی وزیرخارجہ نے زیرحراست قیدیوں کو دی جانے والی ایذاؤں کی فلم سامنے آنے کے بعد بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ مائیک پمپیؤ نے زیرحراست افراد کو سی آئی اے کے اہلکاروں کے ذریعے دی جانے والی ایذاؤں کی فلم سامنے آنے کے بعد اپنے ٹویٹر پیج پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کوشش کی ہے کہ ان لوگوں کو دہشت گرد ثابت کریں جنھیں سی آئی اے کے اہلکار ایذائیں دے رہے ہیں۔

مائیک پمپیؤ نے دعوی کیا کہ برے لوگ دہشت گرد ہیں نہ کہ وہ لوگ جو سی آئی اے میں اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔

ہدایت کار اسکارٹ برنز کی فلم دی رپورٹ ابھی حال ہی میں سینما گھروں میں آئی ہے۔ اس فلم میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد بازپرس کے دوران سی آئی اے کے اہلکاروں کے ذریعے زیرحراست افراد کو دی جانے والی ایذاؤں کے مناظر کو دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مائیک پمپیؤ دوہزار سترہ سے دوہزار اٹھارہ تک سی آئی اے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

اس کے بعد سے جینا ہاسپیل سی آئی اے کی سربراہ بنی ہیں جن پر قیدیوں کو ایذائیں دینے اور اس سے مربوط ثبوتوں کو مٹانے کا الزام ہے اور اسی وجہ سے جب انہیں سی آئی اے کا سربراہ بنایا جارہا تھا تو ایک تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔

صومالیہ میں کار بم دھماکے میں 70 سے زائد افراد ہلاک، درجنوں زخمی

یہ بھی پڑھیں

کئی مہینوں سے بند مشہور سیاحتی مقام کھول دیا

کئی مہینوں سے بند مشہور سیاحتی مقام کھول دیا

ماچو پیچو: جاپانی شہری جیسی کٹایاما پیرو کے مشہور سیاحتی مقام ’ماچو پیچو‘ کو دیکھنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے