مصروف علاقے میں ایک کار بم دھماکے سے 76 افراد ہلاک

مصروف علاقے میں ایک کار بم دھماکے سے 76 افراد ہلاک

صومالیہ: دھماکا شہر کے مصروف ترین شاہراہ پر ہوا جہاں سیکیورٹی چیک پوائنٹ اور ٹیکس آفس کی وجہ سے ٹریفک کا رش موجود تھا

دھماکے کی وجہ سے کئی گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ زخمیوں کو جائے وقوع سے ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
موغادیشو میں القائدہ کی اتحادی تنظیم الشباب کے جنگجوؤں کی جانب سے اکثر کار بم دھماکے کیے جاتے رہے ہیں۔
نجی ایمبولینس سروس امین کے ڈائریکٹر عبدالقدیر عبدالرحمٰن حاجی  بات کرتے ہوئے 76 افراد کے ہلاک ہونے اور 70 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔
پولیس افسر ابراہیم محمد نے دھماکے کو تباہ کن قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہلاک افراد میں 2 ترک شہری بھی شامل ہیں تاہم ہمیں اس کی ابھی اطلاع نہیں کہ وہ راہ گیر تھے یا اس علاقے میں قیام پذیر تھے‘۔
موغادیشو کے میئر عمر محمد نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد ابھی تک معلوم نہیں کی جاسکی ہے تاہم 90 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے تصدیق بعد میں کریں گے تاہم یہ کم نہیں ہوگی، ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد یونیورسٹی کے طالب علم اور دیگر شہری تھے‘۔
عینی شاہد محب احمد کا کہنا تھا کہ ’یہ انتہائی خوفناک سانحہ ہے کیونکہ جب یہ دھماکا ہوا تو اس وقت اس علاقے سے گزرنے والے زیادہ تر افراد میں طالب علم بھی شامل تھے‘۔
دھماکے کے بعد ہر طرف لاشیں ہی لاشیں تھیں جن میں سے چند جھلس کر شناخت کے قابل بھی نہیں تھیں‘۔
القائدہ کی اتحادی تنظیم الشباب کو صومالیہ کے دارالحکومت سے 2011 میں نکال دیا گیا تھا تاہم یہ تنظیم اب بھی ملک کے چند علاقوں پر کنٹرول رکھتی ہے جبکہ اس تنظیم کی جانب سے پڑوسی ملک کینیا پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے