اقبال بانو نے دہلی میں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی

اقبال بانو نے دہلی میں کلاسیکی موسیقی کی تعلیم حاصل کی

کراچی: سنہ 1950 کی دہائی میں اقبال بانو نے پاکستان کی نوزائیدہ فلم انڈسٹری میں ایک پلے بیک سنگر کے طور پر اپنی جگہ بنالی تھی

گمنام، قاتل، انتقام، سرفروش، عشقِ لیلیٰ، اور ناگن میں ان کے پس پردہ گیت اور غزلیں پاکستانی فلم انڈسٹری کا ایک اہم سنگ میل تصور کی جاتی ہیںخصوصاً فلم قاتل کے لیے گائی ہوئی ان کی غزل’ تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے‘ اور’ الفت کی نئی منزل کو چلا نے ‘ نے پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی انتہائی مقبولیت حاصل کی۔
لیکن ان کا طبعی رجحان ہلکی پھلکی موسیقی کے بجائے نیم کلاسیکی گلوکاری کی طرف رہا۔
ٹھمری اور دادرے کے ساتھ ساتھ انہوں نے غزل کو بھی اپنے مخصوص نیم کلاسیکی انداز میں گایا۔
فیض احمد فیض کے کلام کو گانے کے حوالے سے مہدی حسن کے بعد سب سے اہم نام اقبال بانو کا ہی سمجھا جاتا ہے۔
اقبال بانو نے یوں تو ہر طرح کے گیت گائے لیکن ان کی شہرت کا سبب غزلیں اور نظموں کی شاندار گائیکی بنی۔
اسی طرح اقبال بانو نے ایک مشہور غزل ‘داغِ دل ہم کو یاد آنے لگے’ کو بھی اپنی دلفریب گلوکاری سے ایک نیا رخ بخشا۔
مگر ضیاءالحق کے آخری دِنوں میں فیض کی نظم ‘لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے’ اقبال بانو کا ٹریڈ مارک بن گئی اور ہر محفل میں اس کی فرمائش کی جاتی تھی، یہ سلسلہ ان کی وفات سے چند برس پہلے تک جاری رہا۔
اردو کے علاوہ انہوں نے فارسی غزلیں بھی گائیں جو کہ ایران اور افغانستان میں بہت مقبول ہوئیں۔
انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے 1990 میں صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
وہ 21 اپریل 2009 کو مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔
موسیقی کے ماہرین اقبال بانو کو انمول تحفہ کہتے ہیں، جو قدرت صدیوں میں کسی قوم کو عطا کرتی ہے۔
آج وہ ہم میں نہیں مگر منفرد انداز میں گائی گئی غزلوں کی بناء پر وہ آج بھی اپنے پرستاروں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

معروف اداکارہ عائزہ خان جوکہ زیادہ تر انسٹاگرام پر فعال

معروف اداکارہ عائزہ خان جوکہ زیادہ تر انسٹاگرام پر فعال

مقبول ترین ڈراما سیریل ’مہر پوش‘ کی ’مہرو‘ نے ٹوئٹر پر فعال ہوتے ہوئے اپنا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے