فلپائن میں سمندری طوفان سے تباہی، 16 افراد ہلاک ہوگئے

فلپائن میں سمندری طوفان سے تباہی، 16 افراد ہلاک ہوگئے

فلپائن میں  رواں سال کے 21 ویں سمندری طوفان ‘فان فون’ نے تباہی مچادی ،طوفانی ہواؤں اور بارشوں کے باعث مختلف حادثات میں 16 افراد ہلاک ہو گئے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق سمندری طوفان گذشتہ روز کرسمس کے دن فلپائن کے وسطی حصے سے ٹکرایا۔

طوفان کے باعث 195 کلومیٹر فی گھنٹے سے چلنے والی ہواؤں نے بڑی تباہی مچائی، تیز ہواؤں کے باعث سیکڑوں درخت جڑ سے اُکھڑ گئے اوربجلی کے  کھمبے بھی گر گئے جب کہ متعدد گھروں کی چھتیں اُڑ گئیں۔

متاثرہ علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورک بھی تباہ ہوگیا، ہنگامی صورتحال کے باعث ائیر پورٹ پر پروازیں بھی منسوخ کردی گئیں۔

کرسمس منانے کے لیے بڑی تعداد میں مسافر سفر کررہے تھے تام ہنگامی صورتحال کے باعث 115 پروازیں منسوخ کردی گئیں اور 15 ہزار سے زائد افراد مختلف ائیر پورٹس پر پھنسے ہوئے ہیں۔

طوفانی بارشوں کے باعث متعدد سڑکیں زیر آب آگئیں جس کے باعث امدادی کاموں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

متاثرہ علاقے میں لوگ کرسمس کی تیاریوں میں مصروف تھے

متاثرہ علاقے میں اکثریت کیتھولک عیسائیوں کی ہے اور جس وقت طوفان ٹکرایا سب لوگ کرسمس کی تیاریوں میں مصروف تھے۔

حکام کے مطابق زیادہ تر ہلاکتیں کرنٹ لگنے، درخت گرنے اور گھروں کی چھتیں گرنے کے باعث ہوئیں ہیں جب کہ 5 مچھیرے بھی لاپتہ ہیں جن کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی فلپائن کے مطابق طوفان کے نتیجے میں 2 ہزار 351 افراد متاثر ہوئے ہیں اور 1500 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے جب کہ 58 ہزار سے زائد افراد طوفان سے پہلے ہی علاقہ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

ایجنسی کے مطابق طوفان کے باعث 87 شہروں میں بجلی منقطع ہوئی تھی جن میں سے 24 شہروں میں فراہمی بحال کردی گئی ہے۔

خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں ہی فلپائن کے جنوب مشرقی جزیرے لوزون میں سال 2019 کے 20 ویں سمندری طوفان کموری کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے