ملک شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی تازہ لہر کو نہیں سنبھال سکتا

ملک شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی تازہ لہر کو نہیں سنبھال سکتا

ترکی: شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں بمباری کے بعد لاکھوں افراد ترک سرحد کی جانب نقل مکانی کر رہے ہیں ترکی میں پہلے سے ہی 37 لاکھ پناہ گزین موجود ہیں جو کہ دنیا میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے

اردوغان کا کہنا ہے کہ پناہ گزیوں کا نئی بھیڑ کو یورپی ممالک بھی محسوس کریں گے۔
ادلیب میں تیس لاکھ افراد مقیم ہیں یہ شام کا وہ آخری بڑا علاقہ ہیں جہاں بشار الاسد کے مخالف جہادیوں اور باغیوں کا قبضہ ہے۔
استنبول میں اتوار کو ہونے والی ایک ایوارڈز کی تقریب میں طیب ادروغان کا کہنا تھا شامی اور روسی فوج کی جانب سے بمباری کے بعد 80ہزار سے زائد افراد ادلیب سے نقل مکانی کر کے ترکی کی سرحد پر آ رہے ہیں۔
’اگر ادیب کے لوگوں کے خلاف تشدد ختم نہ ہوا تو یہ تعداد مزید بڑھ جائے گی ایسی صورت میں ترکی ان پناہ گزینوں کا بوجھ اکیلے نہیں اٹھا سکے گا۔ ‘
ان کا مزید کہنا تھا ’اس دباؤ کے منفی اثرات پوری یورپی یونین پر پڑے گہ خاص طور پر یونان پر۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ترکی کا ایک وفد ماسکو گیا ہے تاکہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے