کمپنی زارا نے فیشن کی دنیا میں کئی بڑے ناموں کے خلاف ٹرینڈز کی جنگ لڑی مصنوعات کی ریکارڈ فروخت بھی کی

کمپنی زارا نے فیشن کی دنیا میں کئی بڑے ناموں کے خلاف ٹرینڈز کی جنگ لڑی مصنوعات کی ریکارڈ فروخت بھی کی

سپین: یہ بس اس کی ایک علامت ہے کہ کس طرح سپین کی ملبوسات کی کمپنی زارا نے فیشن کی دنیا میں کئی بڑے ناموں کے خلاف نہ صرف ٹرینڈز کی جنگ لڑی بلکہ اپنی مصنوعات کی ریکارڈ فروخت بھی کی ہے

یہ ملبوسات گرمیوں کے ہیں۔ یہ زارا کا وائرل ہونے والا ایک فیشن سٹیٹمنٹ ہے جسے کمپنی کے لباس کے مداح انسٹاگرام پر دیکھ سکتے ہیں۔
اس کمپنی کی کامیابی اور اس کے سائز کے مدنظر یہ کسی پہیلی سے کم نہیں۔ یہ کوئی اشتہار نہیں دیتی، کوئی غیر ضروری مارکیٹینگ نہیں کرتی اور اس کے سربراہ پابلو ازلا نے اب تک کوئی بڑا انٹرویو بھی نہیں دیا ہے جنھیں گذشتہ سال ایک بزنس ميگزن نے دنیا کا بہترین کارکردگی والا ایگزیٹو قرار دیا تھا۔
پابلو ازلا نے حال ہی میں زارا کے مستقبل کے منصوبے تیار کیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ ڈیجیٹل اور ماحول دوست تبدیلی کے حق میں ہیں۔ لیکن کیا یہ کسی کمپنی کے لیے قابل عمل ہے جب ان کا سارا کاروبار اس بات پر منحصر ہے کہ خریدار آئیں اور ان کا سامان زیادہ سے زیادہ خریدیں؟
شمالی سپین میں ان کے کیمپس جیسے ہیڈ آفس میں بات کرتے ہوئے زارا کے چیئرمین پابلو ازلا نے کہا کہ زارا اور اس کی پیرنٹ کمپنی نے ماحولیاتی اعتبار سے کپڑوں کے مسائل پر غور کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کمپنی کے لیے ایک ساتھ منافع بخش اور مستحکم یا ماحول دوست ہونے میں کوئی تضاد نہیں ہے۔‘
’اگلے سال سے ساری دنیا میں پھیلے ہمارے سٹورز میں توانائی اور پانی کے استعمال میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔ اگر آپ کے یہاں توانائی کا خرچ 20 فیصد کم ہے تو آپ کا فائدہ ہے۔‘
دراصل کمپنی کے کام کرنا کا طریقہ اسے مستحکام بناتا ہے۔ پابلو ازلا نے وضاحت کی کہ زارا میں ’کم انوینٹری (یعنی سامان) کے ساتھ کام کیا جاتا ہے۔‘
اس سے خرید و فروخت میں کم سے کم مال کے ضائع ہونے میں مدد ملتی ہے اور لباس میں بڑی چھوٹ دینے سے بچا جا سکتا ہے۔
زارا کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرنے کے دوران میرا گزر ان میزوں سے ہوا جہاں عملہ زارا سٹور کے مینیجرز سے آنے والے ڈیٹا کے جائزے میں مشغول تھا۔
ان معلومات کی بنیاد پر وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں ہر ہفتے کون سی چیز تیار کرنی ہے اور زارا کی فیکٹری صرف وہی چیزیں بناتی ہے جو فروخت ہوتی ہیں۔ زارا کے زیادہ تر لباس سپین میں ان کی فیکٹریوں یا پھر ہمسایہ ممالک پرتگال، مراکش اور ترکی میں بنتے ہیں۔
زارا میں خواتین کا لباس بنانے والی ایک اہم فیکٹری اس کے ہیڈ آفس کے پاس ہی ہے۔ یہاں تیزی سے کام کرنا اہم ہے جس سے زارا کو اپنے حریفوں کے مقابلے میں تازہ ٹرینڈز (رواج) میں آنے والے لباس اپنے سٹور میں پہنچا دینے ہوتے ہیں۔
دو سال قبل ترکی میں زارا کے خریداروں کو کپڑوں کے ساتھ وہاں کام کرنے والوں کی جانب سے پرچیاں ملیں جن میں لکھا ہوا تھا کہ انھیں تنخواہ نہیں ملی اور ان سے کہا گیا کہ وہ کام کے بہتر معیار کے لیے آواز اٹھائیں۔ جب اس کے بارے میں پابلو ازلا سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ کپڑے سپلائے کرنے والی ایسی کمپنیوں کے ساتھ کام کرنا ’ارتقائی عمل‘ تھا۔
جہاں تک کام کرنے کے حالات پر نظر رکھنے کی بات ہے تو ’سب سے اہم بات اپنے سپلائیرز کے ساتھ دیر پا رشتہ قائم کرنا ہے۔‘
فیشن ریولیوشن ایک آزاد تنظیم ہے جو اس بات پر نظر رکھتی ہے کہ کپڑے کہاں سے آتے ہیں اور اخلاقی پہلوؤں کا کتنا خیال رکھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زارا کو بتانا چاہیے کہ ان کے کپڑے کہاں بنتے ہیں تاکہ انھیں معیار کے بارے میں ذمہ دار ٹھہرایا جا سکے۔
فیشن ریوولیوشن کی پالیسی ڈائریکٹر سارہ ڈیٹی کہتی ہیں کہ ’زارا کی مالک کمپنی انڈیٹکس فیشن اور ملبوسات فروخت کرنے والی ان بڑی کمپنیوں میں سے ہے جو اپنے سے منسلک کپڑے بنانے والی کمپنیوں کے نام شائع کرنے میں سستی دکھاتے ہیں۔‘
’دوسرے بڑانڈز نے اپنے سامان بنانے والوں کی فہرست شائع کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ایسا کرنے سے انھیں نقصان نہیں ہوگا۔
میں ہیڈکوارٹر میں بنے ہوئے زارا کے پائلٹ سٹور سے گزری جہاں ہر چیز سلیقے سے لگی ہوئی تھی لیکن بس وہاں گاہک نہیں تھے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں زارا جانچ کرتی ہے کہ روشنی اور ڈسپلے سے لے کر تمام چيزیں کس طرح نظر آئيں گی اور محسوس ہوں گی۔
ان کا ہدف ہے کہ اپنے سٹور میں ضائع شدہ مواد کو ختم کیا جائے۔ یعنی پیکیجنگ کا سارہ سامان ریسائیکل کیے گئے کارڈ بورڈ یا پلاسٹ سے بنا ہو۔
ری سائکل ان کے کپڑوں کا بھی ایک بڑا تھیم یا موضوع ہے۔
امریکہ کی معروف یونیورسٹی ایم آئی ٹی کے ساتھ اس ضمن میں کام کر رہے ہیں تاکہ ریسائیکل پلاسٹک سے کپڑے بنانے کا طریقہ تیار تلاش کیا جائے۔
مجھے تازہ ریسائیکل کیے ہوئے پلاسٹک کے کپڑے دیکھنے اور چھونے کا موقع ملا۔ انھیں ہاتھ لگاتے ہی ریشم کا احساس ہوا۔
پابلو ازلا کا وعدہ ہے کہ زارا اور اس سے منسلک کمپنیوں کے کاٹن، لینن، اور پولیسٹر سے بنے کپڑے سنہ 2025 تک پوری طرح نامیاتی، ماحول دوست اور ریسائیکل کے قابل ہو جائیں گی۔
فیشن ریولیوشن کی سارہ ڈیٹی کا کہنا ہے کہ زارا کا اپنے مختلف اقسام کے لباس میں زیادہ تر قابل عمل مواد استعمال کی جانب اقدام اہم ہے لیکن یہ ضروری ہے کہ سارے برانڈز یہ قدم اٹھائیں۔
بہر حال انھوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اصل مسئلہ اس بات پر ہے کہ وہ کتنے کپڑے بناتے ہیں۔
انڈیٹکس نے کہا کہ اس نے سنہ 2017 میں ڈیڑھ ارب مصنوعات بنائی۔ ماحول دوست کپڑے ہونے کے باوجود یہ تعداد زمین کو انسانی زندگی کے لیے غیر مستحکم کر سکتی ہے۔
ہم کتنے کپڑے خریدتے ہیں یہ اس بات کا اشاریہ ہے کہ اس صنعت نے کم وقت میں کتنی ترقی کی ہے یا کتنی بدلی ہے۔ یورپ کو دیکھا جائے تو کپڑوں کا سب سے زیادہ استعمال برطانیہ میں ہے۔ ہر شخص سالانہ 6۔27 کلو کپڑے استعمال کرتا ہے۔
فیشن کی مارکیٹنگ کرنے والی جیزمین جوناس کہتی ہیں کہ زارا کی آمدن بہت زیادہ ہے۔
’میں زارا کی دکان میں پراعتماد ہوتی ہوں کہ مجھے ایسی چیز مل جائیں گی جو اچھی لگیں، مجھ پر فٹ آئیں اور وہ میرے بجٹ کے مطابق ہو۔ لیکن اب ہر طرف سے ماحول دوست کپڑوں کی مانگ بڑھ رہی ہے۔‘
یہ صرف فیشن ریولیوشن کا کہنا نہیں ہے۔ بلکہ بہت سے لوگ مہم چلا رہے ہیں کہ ماحول کو فائدہ تب ہی پہنچے گا اگر کپڑے بننا اور ان کی فروخت کم ہوجائے۔
لیکن زارا اور انڈیٹکس کے لیے یہ حل کیسے ہو سکتا ہے جو اپنی ریکارڈ فروخت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں؟
پابلو ازلا کا کہنا ہے کہ ’یہ ہمیشہ سے گاہکوں کا فیصلہ رہا ہے کہ وہ کتنی مصنوعات خریدنا چاہتے ہیں۔‘
’میرے خیال سے ایک کمپنی کے طور پر ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم ماحول دوست طریقوں پر اپنا سامان تیار کرنے پر توجہ مرکوز رکھیں۔ ہر ایک گاہک، ہر ایک شخص اس بات کے لیے آزاد ہے کہ کب وہ کتنا خرینا چاہتا ہے۔ اگر کوئی ریستواں جا کر یا کپڑے خرید کر اپنے پیسے خرچ کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی آزادی ہے۔
پابلو ازلا کے مطابق ’مجھے یہ لباس لینا چاہیے یا نہیں‘ یہ چینجنگ روم کی پرانی بحث ہے اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حتمی طور پر گاہک کا فیصلہ ہے کہ ماحول دوست کپڑے کتنے ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

’اسنیپ چیٹ‘ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایپلیکیشن پر تشہیر روک دی

واشنگٹن: ٹرمپ نے حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر سیاہ فاموں کی جانب سے احتجاج اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے