اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاتون رکن اجلاس میں شرکت نہ کریں

اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاتون رکن اجلاس میں شرکت نہ کریں

واشنگٹن: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات اور پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والی کانگریس کی خاتون رکن پرامیلا جایاپال کو ان سے ہونے والی ملاقات میں شریک افراد کی فہرست سے نکال دیا جائے

کانگریس کی خواتین ارکان پرامیلا جایاپال اور کمالا حارث بھارتی پسِ منظر سے تعلق رکھتی ہیں، کمالا حارث کی والدہ کا تعلق چنائی سے تھا جبکہ پرامیلا جیاپال وہاں پیدا ہوئی تھیں۔
بھارتی سفارت خانے نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کے نظریات بتانے کے لیے واشنگٹن میں کانگریس کی امور خارجہ کمیٹی کے ساتھ سبرامنیم جے شنکر کی ملاقات طے کی تھی تاہم انہوں نے پرامیلا جیاپال سے ملاقات سے انکار کردیا تھا۔
پرامیلا جیاپال کانگریس کی ذیلی کمیٹی برائے ایشیا اور پیسیفک کی رکن ہیں اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت کے موقف کو مسترد کرتی ہیں اور نئی دہلی کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔
پرامیلا جیاپال نے کانگریس میں ایک قرار داد پیش کی تھی جس میں بھارت سے جلدازجلد مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں اور مواصلاتی رابطے پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر اصرار کیا تھا اور مقبوضہ وادی کے تمام رہائشیوں کی مذہبی آزادی کی حفاظت پر زور بھی دیا تھا۔
وہ بھارتی شہریت کے نئے قانون پر بھی تنقید کرتی ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ یہ مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔
انہوں نے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’ مجھے شدید تشویش ہے، کسی الزام کے بغیر لوگوں کو گرفتار کرنا، مواصلاتی رابطوں کو محدود کرنا اور غیر جانبدار تیسرے فریقین کو خطے کے دورے سے روکنا بھارت کے ساتھ ہمارے قریبی، باہمی تعلقات کے لیے نقصان دہ ہے۔
پرامیلا جیاپال کی شرکت سے آگاہ کرنے پر سبرامنیم جے شنکر نے اپنے معاونین کو کہا تھا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاتون رکن اجلاس میں شرکت نہ کریں۔
رپورٹس کے مطابق سبرامنیم جے شنکر پرامیلا جیاپال کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی کریک ڈاؤن کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کرنے پر خاص طور پر پریشان تھے۔

یہ بھی پڑھیں

دنیا بھر میں کرونا وائرس انفکیشن سے اموات کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

دنیا بھر میں کرونا وائرس انفکیشن سے اموات کی تعداد 11 لاکھ 23 ہزار سے تجاوز کر گئی

شنگھائی: نجی سافٹ ویئر سلوشن کمپنی کی ریفرنس ویب سائٹ ورلڈومیٹر کے اعداد و شمار …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے