کراچی شہر میں نصب ٹریفک سگنلز کے بند ہونے کا خدشہ

کراچی شہر میں نصب ٹریفک سگنلز کے بند ہونے کا خدشہ

کراچی: ریفک سگنلز کی مرمت کرنے والے کنٹریکٹر نے کے ڈی اے کو انتباہ کیا ہے کہ ڈھائی کروڑ روپے کے بقایاجات جو 20ماہ سے ادا نہیں کیے گئے یکم جنوری 2020ء تک ادا کردیے جائیں بصورت دیگر ٹریفک سگنلز کی سروسز منقطع کردی جائیں گی

شہر کی اہم شاہراہوں پر مجموعی طور پر 163ٹریفک سگنلز نصب ہیں جن میں 101 سگنلز ادارہ ترقیات کراچی کا ٹریفک انجینئرنگ بیورو کنٹرول کرتا ہے جبکہ 60سگنلز کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ اور 2 سگنلز سول ایویشن اتھارٹی کی زیر نگرانی کام کررہے ہیں، ان تمام ٹریفک سگنلز کا آپریشن ٹریفک پولیس کو تفویض کیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صرف ٹریفک سگنلز کے سوئچ آن اور آف کرتے ہیں۔
ٹریفک سگنلز کی دیکھ بھال، ان کی مرمت اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی سمیت دیگر تمام امور متعلقہ ادارے کررہے ہیں۔ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے ذرائع نے بتایا کہ ٹریفک انجینرنگ بیورو کے تحت لگنے والے تمام سگنلز اربن ٹریفک کنٹرول (یوٹی سی) کے تحت کام کررہے ہیں جس میں ٹریفک کی نقل وحرکت اور والیوم کے مطابق ٹائمنگ سیٹ کی گئی ہے۔
شہر میں جاری ترقیاتی کاموں اور دیگر وجوہ کے باعث کئی سگنلز عارضی طور پر ہٹائے گئے جنھیں اب دوبارہ نصب کرنا ہے۔
ہونے والی کھدائی سے ٹریفک سگنلز کے زیر زمین کیبلز بھی کٹ جاتے ہیں جن کی شکایات روزانہ کی بنیاد پر درج ہوتی ہے اور متعلقہ کنٹریکٹر بروقت ان کیبلز کی مرمت کرتا ہے، اگر ٹریفک سگنلز کی مرمت اور دیکھ بھال کا کام موقوف ہوگا تو اس سے ٹریفک سگنلز کی کارکردگی پر بھی برا اثر پڑیگا اور بتدریج یہ سگنل بند ہونا شروع ہوجائیں گے۔
ٹریفک انجینئرنگ بیورو کے افسران نے سابق ڈی آئی جی ٹریفک ڈاکٹر امیر شیخ اور دیگر اعلیٰ حکام کو ٹریفک پولیس کی اس غیر ذمہ داری کی نشاندہی کی تو ٹریفک پولیس نے دیگر اہم شاہراؤں سے یہ پریکٹس ختم کردی تاہم ابھی بھی 30 مقامات ایسے ہیں جہاں ٹریفک پولیس اپنی من مانی کرتے ہوئے ٹریفک سگنلز کے سوئچ بند کرکے مینوئل ٹریفک کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کرتی ہے۔
لیاقت آباد 10 نمبر اور کریم آباد پر فلائی اوور اور انڈر پاس کی تعمیر کے بعد ٹریفک پولیس کی درخواست پر لیاقت آباد دس نمبر کی سڑک سے سگنلز ہٹادیے گئے جبکہ کریم آباد کے سگنلز بند پڑے ہیں، دونوں مقامات پر ٹریفک پولیس مینوئل طریقے سے ٹریفک کنٹرول کرتی ہے جس کے سبب یہاں مصروف اوقات کے علاوہ بھی ٹریفک جام کی شکایات رہتی ہیں۔
کنٹریکٹر کمپنی سیلیکون کمیونی کشن اینڈ سیکوریٹی کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی کو لیٹر لکھا جاچکا ہے کہ یکم جنوری 2020ء تک کمپنی کے ڈھائی کروڑ کے بقایات جات ادا کردیے جائیں ، بصورت دیگر کمپنی اپنی سروسز جاری نہیں رکھ سکے گی۔
محکمہ فنانس کے ایک آفیشل نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کے ڈی اے کو اس وقت شدید مالی بحران کا سامنا ہے، حکومت سندھ کی جانب سے جو گرانٹ ملتی ہے اس سے بہ مشکل تنخواہوں اور پنشن کی ادائیگی کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

سینئر سرکاری عہدیداروں نے 1976 کے ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزی

کراچی: سینئر عہدیداروں نے عام لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ڈریپ کے کام کو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے