حکومت نے متعلقہ حکام کو گھروں میں گیس کی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت

حکومت نے متعلقہ حکام کو گھروں میں گیس کی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت

لاہور: شارٹ فال سے نہ صرف گھریلو صارفین متاثر ہوئے ہیں بلکہ کمپریسڈ نیچرل گیس (سی این جی) سیکٹر کو بھی گزشتہ کئی روز سے سپلائی بند ہے

گزشتہ روز سیالکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ حکومت نے متعلقہ حکام کو گھروں میں گیس کی سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے
فاقی حکومت اور گیس فراہم کرنے والے اداروں نے کئی سالوں سے قدرتی گیس کی مزید دریافت، گیس چوری اور لیکیج معلوم کرنے مطلوبہ لیکویفائیڈ نیچرل گیس درآمد کرنے ( خاص طور پر سندھ میں) اور ہمیشہ سے بڑھتی طلب میں اضافے کے باوجود صارفین کی جانب سے کمپریسرز کا استعمال روکنے اور ماہرینِ موسمیات کی جانب سے بارہا وارننگز کے باوجود اس حوالے سے کم کوششیں کی ہیں۔
پنجاب اور خیبرپختونخوا میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ کو 200 ایم ایم سی ایف ڈی شارٹ فال کا سامنا ہے۔
ایس این جی پی ایل کے سینئر عہدیدار کے مطابق خیبرپختونخوا اور پنجاب کے مختلف سیکٹرز میں گیس چوری اس شارٹ فال کی بڑی وجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘خیبرپختونخوا میں پیدا ہونے والی گیس کے مجموعی حجم کا نصف حصہ گیس فیلڈز کےقریبی علاقوں میں موجود افراد چوری کرلیتے ہیں‘۔
سینئر عہدیدار نے کہا کہ ’ گیس چوری کے لیے ان کے پاس اپنے ذاتی نیٹ ورکس ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ گیس ان کے علاقوں کی نکالی جارہی ہے اس لیے ان کا اس پر زیادہ حق ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ ہمارے پاس 950 سے 970 ایم ایم سی ایف ڈی گیس موجود ہے، ہمیں سسٹم میں 1020 ایم ایم سی ایف ڈی ریگیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) بھی موصول ہورہی ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ ’ طلب میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے 60 لاکھ گھریلوصارفین کو گیس فراہم کرنے کے لیے ہم صنعتوں اور سی این جی سیکٹر کی سپلائی روکنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
موسم کی بدلتی صورتحال سے متعلق عہدیدار نے کہا کہ پاکستان، موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا پانچواں ملک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’ ہم ان دنوں سردی کی جس شدت کا ہمیں سامنا کررہے ہیں وہ بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے تمام صوبوں میں طلب میں اضافہ ہوگیا ہے‘۔
گھریلو صارفین کو 20 فیصد سے زائد گیس فراہم کرنے کے باوجود صورتحال قابو سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے‘۔
کم گیس پریشر کا سامنا کرنے والے علاقوں میں صارفین کی جانب سے بڑے پیمانے پر کمپریسرز کا استعمال بھی شارٹ فال کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔
ایس ایس جی سی کے سینئر عہدیدار نے کہا کہ ’ ابتدائی طور پر ہم نے سی این جی سیکٹر کو سپلائی روک دی تھی لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا تھا‘۔
ہم نے صنعت سے درخواست کی تھی کہ کم از کم کیپٹو پاور پلانٹ کے گیس کا استعمال روک دیں لیکن انہوں نے ہماری نہیں سنی جس کی وجہ سے ہم گھریلو صارفین کو ریلیف دینے میں بے بس ہوگئے ہیں‘۔
سندھ اور بلوچستان کو گیس فراہمی میں ایس ایس جی سی کو 400 ایم ایم سی ایف ڈی شارٹ فال کا سامنا ہے کیونکہ موجودہ طلب 1500 ایم ایم سی ایف ڈی تک بڑھ گئی ہے۔
ایک اور ایس ایس جی سی عہدیدار نے کہا کہ نئی گیس فیلڈز سے گیس نکالنے کے لیے زمین مختص کرنے اور 2 پائپ لائنز بچھانے کے صحیح طریقے کے مسائل موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بحران پر قابو پانے کے لیے متعلقہ حکام سے تعاون طلب کیا جارہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ایل این جی درآمد کرنا چاہتی ہے لیکن وفاقی حکومت اجازت نہیں دے رہی۔

یہ بھی پڑھیں

فواد چوہدری نے مریم نواز کو سالگرہ کی مبارکباد

فواد چوہدری نے مریم نواز کو سالگرہ کی مبارکباد

فیصل آباد: وفاقی وزیر فواد چوہدری نے (ن) لیگ کی نائب صدر کو سالگرہ کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے