انڈیا سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ وہ بعض مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے اقدام کر رہا ہے

انڈیا سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ وہ بعض مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے اقدام کر رہا ہے

ملائیشیا: ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کوالالمپور سربراہی سمٹ کی سائیڈ لائنز پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے یہ دیکھ کر افسوس ہوا ہے کہ انڈیا سیکولر ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے جبکہ وہ بعض مسلمانوں کی شہریت چھیننے کے اقدام کر رہا ہے

انڈیا کے دفتر خارجہ نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملائیشیا کے وزیر اعظم کا بیان حقیقت سے دور ہے۔ ’شہریت کے ترمیمی قانون کے اثرات کسی بھی شہری پر نہیں ہوں گے، چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔‘
انڈیا میں شہریت کے نئے قانون کے تحت بنگلہ دیش، افغانستان اور پاکستان کی چھ اقلیتی برادریوں (ہندو، بدھ، جین، پارسی، عیسائی اور سکھ) سے تعلق رکھنے والے افراد کو انڈین شہریت دی جائے گی تاہم مسلمان اقلیتوں کو نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا ہے۔
انڈیا میں شہریت کے نئے قانون کے خلاف تازہ مظاہروں میں شمالی انڈیا میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پولیس کے مطابق 32 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اس طرح مجموعی طور پر احتجاجی مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب کم از کم 13 ہو گئی ہے۔
شہریت کے نئے قانوں کو ناقدین مسلم مخالف قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے انڈیا میں کسی بھی مذہب کی پیروی کرنے والا کوئی بھی شہری متاثر نہیں ہو گا۔
ریاست اترپردیش میں جمعے کو کم از کم پانچ افراد گولی لگنے سے ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن ریاست کے پولیس سربراہ او پی سنگھ نے کہا کہ ہے کہ کوئی بھی ہلاکت ان کے افسروں کی گولی لگنے سے نہیں ہوئی ہے۔
دوسری طرف پولیس کی جانب سے حکم امتناہی کے نفاذ کے باوجود لوگ سڑکوں پر نکل رہے ہیں اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تعزیرات ہند کی دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا ہے۔
نئی دہلی کے کئی علاقوں میں دفعہ 144 کا نفاذ کیا گیا تھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں پولیس نے بہت سے لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس طرح اتر پردیش کے تقریبا تمام اور کرناٹک کے بعض اضلاع میں بھی دفعہ 144 کو نافذ کیا گیا اور اس کی خلاف ورزی کے جرم میں ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
دفعہ 144 کے تحت چار یا چار سے زیادہ افراد کی ایک جگہ اکھٹے پر ممانعت ہے۔
کئی مقامات پر دفعہ 144 کے تحت فون نیٹ ورک، کیبل سروسز اور انٹرنیٹ بھی بند کرا دیے جاتے ہیں۔ یو پی اور مغربی بنگال میں ایسا دیکھا گیا ہے حالانکہ اس کے لیے علیحدہ قانون بنائے گئے ہیں۔
اسی لیے لوگوں کا کہنا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کے لیے اس قانون کا غلط استعمال کیا جا تا ہے۔
جمعے کو دارالحکومت دہلی سمیت ملک کے بہت سے حصوں میں مظاہرے دیکھے گئے جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ دلی کی تاریخی جامع مسجد میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ یکجا ہوئے تھے اور اے ایف پی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے مظاہرین کے سر سے خون بہتے دیکھے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے