پاکستانی حکام کے موبائل فون کو نشانہ بنایا گیا

پاکستانی حکام کے موبائل فون کو نشانہ بنایا گیا

کراچی: گارجین کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ رواں برس کے آغاز میں اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی این ایس او گروپ نے کم از کم 2 درجن سے زائد پاکستانی سرکاری حکام کے موبائل فون کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا

اسرائیلی اسپائی ویئر کمپنی کے ہیکنگ سافٹ ویئر کے ذریعے پاکستانی وزارت دفاع اور انٹیلی جنس اداروں کے عہدیداروں کے موبائل فون کو نشانہ بنانے کے تازہ دعوؤں کے تناظر میں پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سوشل میڈیا کمپنی سے تفصیلات طلب

جن پاکستانی حکام کے موبائل فون کو نشانہ بنایا گیا ان میں بیشتر وزارت دفاع اور انٹیلی جنس کے عہدیدار تھے۔
دوسری جانب پی ٹی اے نے واٹس ایپ سے تدابیر اور مستقبل میں ہیکنگ کی اس طرح کی کوششوں کو روکنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کرلیں۔
پی ٹی اے نے اعلامیے میں عوام الناس کو ہدایت کی کہ وہ واٹس ایپ ایپلی کیشن کو جدید ترین ورژن میں اپ گریڈ کریں اور اس طرح کے واقعات سے بچنے کے لیے ڈیوائس آپریٹنگ سسٹم کو آن رکھیں تاہم متاثرہ افراد سے درخواست ہے کہ وہ پی ٹی اے سے complaint@pta.gov.pk پر رابطہ کریں۔
اکتوبر میں واٹس ایپ نے این ایس او گروپ کے خلاف ہیکنگ پلیٹ فارم کی تعمیر و فروخت کا مقدمہ دائر کیا تھا جس میں واٹس ایپ کے زیر ملکیت سرورز میں ایک خامی کا فائدہ اٹھایا کیا گیا تھا تاکہ رواں سال 29 اپریل سے 10 مئی کے درمیان کم از کم 14 ہزار صارفین کے موبائل فون کو ہیک کیا جاسکے۔
یہ ہکنگ سافٹ ویئر این ایس او کے صارفین کے موبائل فون کی خفیہ جاسوسی کرتا ہے جس میں حکومتوں اور انٹلیجنس تنظیموں کے عہدیدار شامل ہیں۔
‘واٹس ایپ ہمارے صارفین کی رازداری اور سلامتی کے بارے میں گہری نظر رکھتا ہے، ایک بار جب ہم نے اسپائی ویئر کا مسئلہ دریافت کیا تو فوراً اپنے نظام میں نئے حفاظتی اقدامات اٹھائے اور لوگوں کی معلومات کو محفوظ رکھنے میں مدد کے لیے واٹس ایپ کو ایپ ڈیٹ کیا گیا’۔
کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ ‘اسپائی ویئر، آپریٹنگ سسٹم کے اندر موجود کمزوریوں پر انحصار کرتا ہے’، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ‘ہم اپنی ہر ممکن کوشش کرنے کے لیے پُرعزم ہیں’۔
اس دوران جب اسپائی ویئر کا نشانہ بننے والے صارفین کی تفصیلات سے متعلق سوال کیا گیا تو سٹیزن لیب اور واٹس ایپ نے دونوں نے تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
واٹس ایپ کے ترجمان نے کہا کہ ‘ہم اس وقت کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں، ہماری ساری توجہ قانونی چارہ جوئی پر مرکوز ہے اور توقع کرتے ہیں کہ کیس آگے بڑھتے ہی ہم مزید معلومات فراہم کریں گے’۔
رواں برس نومبر میں وزارت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے جاری کردہ ایک خفیہ مراسلے میں سرکاری عہدیداروں کو سرکاری امور کے لیے واٹس ایپ کا استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔
وزارت نے سرکاری عہدیداروں کو بھی مشورہ دیا تھا کہ وہ رواں سال 10 مئی سے پہلے خریدے جانے والے تمام موبائل فونز کو ضائع کردیں۔
حساس سرکاری اعداد و شمار اور دیگر اہم معلومات کے لیے واٹس ایپ کا متبادل تیار کرنے سے متعلق اطلاعات بھی گزشتہ ماہ منظر عام پر آئی تھیں۔
اس بارے میں جب متعلقہ حکام سے پوچھا گیا کہ کیا واٹس ایپ کا متبادل نظام تیار کیا جارہا ہے تو نیشنل آئی ٹی بورڈ کے ایک عہدیدار نےتایا کہ اس منصوبے کا ہیکنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انہوں نے اسپائی ویئر سے پاکستانی عہدیداروں کو نشانہ بنانے والی معلومات کی تصدیق بھی نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں

قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر میں پٹرول نایاب ہوگیا

قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر میں پٹرول نایاب ہوگیا

کراچی: حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک بھر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے