اہم ترین وزارت داخلہ نے اپنے تمام عملے کو میڈیا پر آنے سے روک دیا

اہم ترین وزارت داخلہ نے اپنے تمام عملے کو میڈیا پر آنے سے روک دیا

اسلام آباد: وزیر داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ سیکریٹری داخلہ یا متعلقہ محکمہ یا ادارے کے سربراہ کی باقاعدہ اور تحریری منظوری کے بغیر کوئی بھی افسر، اہلکار میڈیا (پرنٹ / الیکٹرانک) سے بات کرے گا اور نہ ہی کسی بھی عہدیدار کا نظریہ، تبصرہ سوشل میڈیا یا کسی اور معلوماتی چینل پراپ لوڈ کرے گا’

نوٹیفکیشن کے مطابق ‘نوٹیفکیشن کی کاپیاں ملک بھر میں وزارت کے ماتحت 22 محکموں کے سربراہوں کو ارسال کردی گئیں ان میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی کے قومی کوآرڈینیٹر، پنجاب اور سندھ میں پاکستان رینجرز کے ڈائریکٹر جنرل، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں فرنٹیئر کور کے ڈائریکٹر جنرل اور پشاور میں ایف سی ، اور گلگت بلتستان اسکاؤٹس کے ڈائریکٹر جنرل بھی شامل ہیں۔
اس فہرست میں شامل دیگر افراد میں اسلام آباد کے چیف کمشنر، آئی جی پی اور کیپیٹل ڈولپمنٹ اتھارٹی کے چیئرمین شامل ہیں۔
نوٹیفکیشن میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں عوام کے منتخب نمائندے میئراسلام آباد کو بھی میڈیا سے بات کرنے سے روک دیا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ شہزاد اکبر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے فیصلے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
13 دسمبر کو حکومت سندھ نے اپنی تمام وزارتوں اور محکموں کے سربراہوں اور افسران کو مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا پر صوبائی پالیسیوں سے متعلق بات نہ کرنے کی ہدایت کردی تھی۔
متعلقہ اداروں کے سربراہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی نمائندگی کرنے والا کوئی بھی اہلکار مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر میڈیا پر حکومتی پالیسیوں پر تبصرہ نہ کرے۔
مراسلے میں کہا گیا تھا کہ ‘بعض سرکاری افسران، سرکاری ملازمین ٹیلی ویژن پر ٹاک شوز، پروگراموں میں حصہ لیتے ہیں، (جس میں) وہ متعلقہ مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر اپنی رائے یا خیالات پیش کررہے ہیں جو کہ قواعد کے خلاف ورزی ہے’۔
سرکاری ملازم (قواعد) رولز 1964 کی شق 22 اور سندھ سول سرونٹ (قواعد) 2008 کی شق 23 پابند کرتی ہے کہ کوئی سرکاری ملازم کسی بھی دستاویز، عوامی تقریر، ریڈیو نشریات یا ٹیلی ویژن پروگرام میں شرکت کرکے کسی معاملے پر حقائق یا رائے کا اظہار نہیں کرسکتا جو وفاق یا صوبائی حکومت کے لیے باعث شرمندگی ہو۔
سندھ گورنمنٹ رولز 1986 کا تذکرہ موجود تھا جس کے تحت کوئی بھی سرکاری ملازم مجاز اتھارٹی کی پیشگی اجازت کے بغیر ذرائع ابلاغ پر سرکاری پالیسی، ریکارڈ یا فرائض سے متعلق بیان نہیں دےگا۔
رول 56 میں تذکرہ تھا جس میں درج ہے کہ متعلقہ وزیر اور ادارے کا سیکریٹری یا اس طرح کے دوسرے افسر کے علاوہ کوئی بھی شخص حکومت کے سرکاری ترجمان کے طورپر کام کرنے کا ‘مجاز نہیں ہوسکتا’۔

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ حملہ کیس سےمتعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنانے کا امکان

پارلیمنٹ حملہ کیس سےمتعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنانے کا امکان

اسلام آباد: اے ٹی سی جج رانا جواد عباس حسن نے درخواست کی سماعت کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے