مودی سرکار امریکی کانگریس کمیٹی کے سامنے شرمندہ ہو گئی

مودی سرکار امریکی کانگریس کمیٹی کے سامنے شرمندہ ہو گئی

واشنگٹن: مقبوضہ کشمیر پر امریکی کانگریس کے لیڈرز کی تنقید کے بعد مودی سرکار بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے، جس کے باعث اسے امریکی کانگریس کمیٹی کے سلسلے میں شرمندگی اٹھانی پڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی ہے کہ مودی سرکار نے کشمیر کی صورت حال پر تنقید کرنے والے رکن کانگریس کو نکالنے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم امریکی کانگریس کے اراکین نے کسی رکن کو کانگریس کمیٹی سے نکالنے سے انکار کر دیا۔

اس صورت حال کا سامنا نہ کر سکنے والے بھارتی وزیر خارجہ سبرا منیم جے شنکر نے گھبراہٹ میں سینئر کانگریس ارکان سے ملاقات ہی منسوخ کر دی۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ بھارت نے کانگریس رکن پرامیلا جیا پال کو دورہ مقبوضہ کشمیر سے بھی روک دیا تھا۔ بھارت نے کشمیر میں انٹرنیٹ اور موبائل سروسز معطل کر رکھی ہے۔

کانگریس رکن پرامیلا جیا پال نے رد عمل میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر پر قرارداد جلد پیش کروں گی، ثابت ہو گیا ہے کہ مودی سرکار مخالف آواز سننے کا حوصلہ نہیں رکھتی۔

یاد رہے کہ 8 دسمبر کو امریکی ایوان نمایندگان میں بھارتی نژاد خاتون رکن پرامیلا جیا پال نے ایوان میں مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر ایک بل پیش کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مواصلات کی بندش اور نظر بندیاں فوری طور پر ختم کرے۔

اپنے تحفظ کیلئےغیر مسلموں پر انحصار ختم کرنا ہوگا،مہاتیر کا کوالالمپور کانفرنس سے خطاب

یہ بھی پڑھیں

ولیم شیکسپیئر کی پہلی کتاب کو ریکارڈ قیمت میں نیلام کردیا گیا

ولیم شیکسپیئر کی پہلی کتاب کو ریکارڈ قیمت میں نیلام کردیا گیا

امریکا: ولیم شیکسپیئر کی 1623 میں لکھی گئی کتاب کو امریکی شہر نیویارک کے کرسٹیز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے