جی-6 میں جامعہ حفصہ بچوں کے پارک کی زمین پر غیرقانونی تعمیرات ختم کرے

جی-6 میں جامعہ حفصہ بچوں کے پارک کی زمین پر غیرقانونی تعمیرات ختم کرے

18 اسلام آباد: دسمبر کو جاری کیے گئے نوٹس میں سی ڈی اے نے مدرسے کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ بچوں کے پارک کی زمین پر غیرقانونی تعمیرات ختم کرے

یہ نوٹس جو مسجد کمیٹی اور مدرسہ الحفصہ کو بھیجا گیا اس میں کہا گیا کہ سی ڈٰ اے کے نوٹس میں یہ بات آئی کہ جامعہ حفصہ کی جانب سے 1963 اسلام آباد بلڈنگ ریگولیشنز اور 2005 اسلام آباد ریزیڈینشیل سیکٹرز زوننگ ریگولیشنز کی خلاف ورزی کی گئی۔
ان خلاف ورزیوں میں مسجد الفلاح سے متصل بچوں کے پارک میں مدرسے کی عمارت کی غیرمجاز اور غیرقانونی تعمیر اور سی ڈی اے کی زمین پر تجاوزات قائم کرنا شامل ہے۔
مذکورہ نوٹس میں مدررسے کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 15 روز میں ان خلاف ورزیوں کو ختم کرے بصورت دیگر وہ اپنے انفورسمینٹ ڈائریکٹریٹ کے ذریعے زبردستی ان خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے کارروائی کرے گا۔
وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا تھا کہ اس معاملے کی قریب سے نگرانی کی جارہی ہے، کچھ ماہ قبل دارالحکومت پولیس کی خصوصی برانچ نے بھی اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ مدرسہ آہستہ آہستہ ریاستی زمین پر پھیلتا جارہا ہے۔
جامعہ حفصہ کی اصل عمارت جی-6 میں موجود ہے، تاہم 2007 کے لال مسجد آپریشن کے دوران حکومت نے اسے بچوں کی لائبریری سمیت مسمار کردیا تھا۔
اس فوجی آپریشن کے بعد حکومت اور مسجد کی انتظامیہ ایک معاہدے پر پہنچے تھے جس کے تحت سی ڈی اے، جامعہ حفصہ کی دوبارہ تعمیر کے لیے ایک متبادل جگہ فراہم کرے گی۔
سی ڈی اے کی جانب سے مدرسے کو ایچ-11 میں 20 کینال زمین الاٹ کی گئی تھی لیکن ذرائع کے مطابق یہ الاٹمنٹ ابھی پتخہ نہیں ہوئی ہے۔
فوجی آپریشن سے قبل جی-7 میں جامعہ سمیہ موجود تھی اور جب جامعہ حفصہ کو مسمار کیا گیا تو جامعہ سمیہ کا نام جامعہ حفصہ کردیا گیا اور مدرسے کو وسعت دینے کا کام شروع ہوا۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی برانچ نے بھی اکتوبر میں اس تعمیری کی نشاندہی کی تھی اور یہ انکشاف کیا تھا کہ مولانا عبدالعزیز اور ان کے اہل خانہ 2007 آپریشن کے بعد اس مدرسے میں منتقل ہوگئے تھے۔
خصوصی برانچ کی جانب سے کچھ ماہ قبل سی ڈی اے سے شیئرکی گئی جس میں کہا گیا کہ ‘اب گلی 302، جی-7/2-3 کی طرف مدرسے کی دوسری منزل کی چھت بچھانے کی تیاریاں جاری ہیں’۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے