ناسا کا تین دہائیوں کے بعد پہلا طیارہ ہے اور آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیز اڑنے پر بھی اس میں کوئی آواز نہیں

ناسا کا تین دہائیوں کے بعد پہلا طیارہ ہے اور آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیز اڑنے پر بھی اس میں کوئی آواز نہیں

امریکا: ایکس 59 طیارہ کوائٹ سپرسونک ٹیکنالوجی سے لیس ہے جسے لاک ہیڈ مارٹن نے ڈیزائن کیا ہے اور اس کی پہلی پرواز 2021 میں متوقع ہے

یہ ناسا کا تین دہائیوں کے بعد پہلا طیارہ ہے اور آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیز اڑنے پر بھی اس میں کوئی آواز نہیں ہوتی بلکہ لگ بھگ خاموش پرواز ہوتی ہے۔
ناسا نے اعلان کیا ہے کہ اس طیارے کو فائنل اسمبلی کے کلیئر کردیا گیا ہے اور اب اس میں سسٹمز کی تنصیب ہوگی۔
اس کی پہلی آزمائشی پرواز 2020 میں ہوگی جبکہ کمرشل بنیادوں پر یہ 2021 میں کام کرنا شروع کردے گا۔
ناسا کے مطابق سپرسانک رفتار سے پرواز کے باوجود اس کی آواز ایک گاڑی کے دروازے کو بند کرنے سے زیادہ نہیں ہوتی اور یہ 55 ہزار فٹ کی بلندی پر 940 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکے گا۔
یہاں یہ واضح رہے کہ آواز کی رفتار 767 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

صدر رجب طیب اردوان نے فرانس کے صدر ایمانیئول میکرون’دماغی معائنہ‘ کرانے کے لیے زور دیا ہے

استنبول: ترک صدر رجب طلب اردوان سے سخت ردعمل دیا تھا ہفتے کو کہا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے