قوانین میں نہیں بلکہ طریقہ کار میں تبدیلی کی ضرورت ہے

لاہورمیں سیمینارسےخطاب کے دوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تفتیشی افسرموقع پرشہادتیں ختم ہونےکےبعد پہنچتاہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نےکہا کہ ملزم کے اہل خانہ، بھائیوں،والدین اورخواتین کاخانہ خراب کردیاجاتاہے۔پولیس مدعیوں کوخوش کرنےکےلیےگرفتاری کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صرف اصل ملزم کو حراست میں لیاجاناچاہیے۔

سپریم کورٹ کےسینیئر جج نے کہا کہ پولیس قوانین کےتحت کسی کی آزادی کو ختم نہیں کیاجاسکتا۔اگرکیس کا فوری اندراج کرکےگرفتاری کےاگلے روز ملزم کوعدالت میں پیش کیاجائےتو تیز انصاف میں مدد ملےگی۔

جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا موجودہ حالات میں تیزی سےانصاف فراہم کیاجاسکتاہے۔انہوں نے کہا کہ قتل کے مقدمات میں بھی جلدفیصلہ ممکن ہے۔ججز فیصلےکریں،ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ کی سطح پرسہولتیں دیں گے۔

 

یہ بھی پڑھیں

بین الاقوامی تعلقات مذہبی جذبات سے بالاتر ہوتے ہیں

بین الاقوامی تعلقات مذہبی جذبات سے بالاتر ہوتے ہیں

ملتان: سوالات کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘بین الاقوامی تعلقات مذہبی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے