گیمبیا کے صدر عہدہ چھوڑنے پر آمادہ

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اعلان میں انھوں نے کہا: ’ضروری نہیں ہے کہ خون کا ایک قطرہ بھی بہے۔‘

جامع کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب انھوں نے گنی اور موریطانیہ کے صدر سے بات چیت کی۔ تاہم جامع نے یہ نہیں کہا کہ کیا شرائط طے ہوئی ہیں۔

جامع کو دسمبر میں ہونے والے انتخابات میں شکست ہو گئی تھی، اور ان کے جانشین آداما بارو نے گذشتہ روز سینیگال میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ تاہم جامع نے کہا تھا کہ انتخابات میں بےضابطگیاں ہوئی ہیں اور ان کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

بارو نے ملک چھوڑ کر جانے والے ہم وطنوں سے کہا کہ وہ اب ملک واپس جا سکتے ہیں۔

کئی مغربی افریقی ملکوں کی فوجیں گیمبیا میں تعینات ہیں۔ ان ملکوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر جامع خود اقتدار سے الگ نہ ہوئے تو انھیں زبردستی معزول کر دیا جائے گا۔

انھوں نے سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں کہا: ‘گیمبیا سے خوف کی حکمرانی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔’

بارو کئی دن سے پڑوسی ملک سینیگال میں ہیں۔

مغربی افریقہ کے ممالک گیمبیا کے حالیہ صدارتی انتخابات کے فاتح آداما بارو کی حمایت کر رہے ہیں۔

جامع نے تقریر میں کہا: ’میں اپنے ضمیر کے مطابق اس عظیم ملک کی قیادت سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اور میں گیمبیا کے تمام شہریوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

جامع 1992 سے اقتدار میں ہیں اور وہ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ ’اربوں سال تک‘ حکومت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں

گروپ سیون اجلاس کے موقع پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

گروپ سیون اجلاس کے موقع پر پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں

گروپ سیون کے اجلاس کے موقع پر فرانسیسی پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے