اداروں میں تصادم نہیں ہم آہنگی چاہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان

اداروں میں تصادم نہیں ہم آہنگی چاہتے ہیں، وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کی موجودہ صورتحال کے پیش نظرپاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی صدارت پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں 2 وزرائے اعلیٰ اور 3 گورنر شریک ہوئے۔

کور کمیٹی اجلاس میں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے تفصیلی فیصلے پر مشاورت ہوئی اور سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کے فیصلے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کور کمیٹی کے اجلاس کے بعد وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ اجلاس میں مختلف ایشوز پر تفصیلی بحث کی گئی،اہم ایشو مشرف کے حوالے سے ہونے والا فیصلہ تھا۔

فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کو مشرف کے فیصلے پر علی ظفر اور بابراعوان نے تفصیلی طور پر کیس سے جڑے نکات سے بریف کیا ،بابراعوان نے فیصلے میں موجود خلاء اور قانونی سقم سے آگاہ کیا۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعظم کا کور کمیٹی کے اجلاس میں کہنا تھا کہ ادارے ہر حال میں اہم اور مقدم ہیں، ہم نے اپنے اداروں کو تقویت دینی ہے اور ہم نے قانون اور آئین کے ساتھ کھڑا ہونا ہے ،ہم اداروں میں تصادم نہیں ہم آہنگی چاہتے ہیں۔

افواج پاکستان کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے

فردوس عاشق اعوان کے مطابق وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں ادارے آئینی اور قانونی دائرے میں ذمہ داریاں نبھائیں، ہمیں افواج پاکستان کی قربانیوں کو کسی صورت فراموش نہیں کرنا چاہیے اورہمیں انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنانا ہے، انصاف کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہمارے منشور کا حصہ ہے۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے دورہ ملائیشیا ملتوی ہونے سے جڑے محرکات سے بھی آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے کور کمیٹی کو بتایا کہ قومی مفاد سب سے مقدم ہے۔

فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی بھی ملک کے انفرادی مفاد کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتا، امہ میں ہم آہنگی پیدا کرنے کےلیے پاکستان کلیدی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

کور کمیٹی اجلاس میں شرکاء کو چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کی تقرری سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا،اس موقع پر وزیراعظم نے کمیٹی کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ اتفاق رائے پیدا کرے۔

قومی سلامتی کاضامن ادارہ سیاست کی نذرکرینگےتوکیا اثرات آئینگے؟

معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ دفاع اورقومی سلامتی کاضامن ادارہ سیاست کی نذرکریں گےتوکیا اثرات آئیں گے؟ ہمیں قانون کی حکمرانی کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔

معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ لاء آفیسرز حکومت اور عدلیہ کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں، خواہشات اور ارمانوں میں جکڑےقانون کو یرغمالی سے نجات دلا کر مزید طاقتور بنائیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم ریاست اور  وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے،ان کا انفرادی مؤقف نہیں ہوتا، گلے سڑے قوانین کو ختم کر کے یکساں نظام قانون کے لیے اصلاحات کی جائیں گی۔

ایران نے پابندیوں کو مواقع میں تبدیل کیا ہے، صدر روحانی

یہ بھی پڑھیں

پارلیمنٹ حملہ کیس سےمتعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنانے کا امکان

پارلیمنٹ حملہ کیس سےمتعلق درخواست کا فیصلہ 29 اکتوبر کو سنانے کا امکان

اسلام آباد: اے ٹی سی جج رانا جواد عباس حسن نے درخواست کی سماعت کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے